مکیش امبانی کے چینل پر مخالف مسلم ‘ نفرت انگیز مباحث قابل تشویش

,

   

صنعتکار فوری توجہ دیں۔ خاموش تماشائی بنے رہنا ٹھیک نہیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کا مکتوب

حیدرآباد 21 جنوری (سیاست نیوز) قومی ٹیلی ویژن چیانلس کے ذریعہ مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں پر مسلم مجلس مشاورت نے شدید ردعمل کا اظہار کرکے چینل نیوز ۔18 کے مالک و منیجنگ ڈائرکٹرمکیش امبانی کو مکتوب روانہ کیا اور کہا کہ ’دیش نہیں جھکنے دیں گے‘ کے عنوان سے جس طرح کے مباحث کا اہتمام ان کے چیانل پر کیا جا رہا ہے ان کو وہ خود مشاہدہ کریں کیونکہ ہندستان جیسے کثیر المذہب ملک میں اس طرح کے مباحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جناب نوید حامدنے مکیش امبانی کور وانہ مکتوب میں کہا کہ ان کے چینل پر جس طرح کی مباحث کا انعقاد کیا جا رہاہے اور جس طرح سے مذہبی منافرت و طبقاتی کشمکش پیدا کی جارہی ہے وہ ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ دینے کا سبب ہے‘ اسی لئے نیوز ۔18 کے مالک کو چینل میں اس طرح کی حرکتوں اور مباحث پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ جناب نوید حامد نے کہا کہ مذکورہ چینل پر ایسے گمراہ کن اور بے بنیاد پروپگنڈوں کو ہوا دی جاتی ہے جن کی کوئی اصل نہیں ہوتی اور اس پروپگنڈے کا مقصد محض مسلمانوں کے متعلق نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینل پر مباحث مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی تمام حدود کو پھلانگ چکے ہیں اور غیر جانبدارانہ و ذمہ دارانہ صحافت کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ نیوز ۔18 چیانل و امبانی کے کارپوریٹ اداروں کیلئے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے پروپگنڈہ پر خاموش تماشائی بنے رہیں ۔جناب نوید حامد نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مکیش امبانی جیسے صنعت کار کے یہ نظریات نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ان کی پالیسی ہوسکتی ہے اسی لئے وہ اپنے مکتوب کے ذریعہ چینل کے مالکین کو اس جانب توجہ دلوانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ اس طرح کی مسلم دشمنی کو فروغ دینے کی کوشش کسی بھی محب وطن کیلئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ چیانل صحافتی اصولوں و اقدار کو روند رہا ہے اور بدقسمتی سے اس کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور مخالف مسلم ذہن سازی کیلئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔ انہو ںنے واضح کیا کہ ان کے چینل پر جس طرح کے مباحث کا انعقاد عمل میں لایا جا رہاہے وہ نہ مسلمانوں کے حق میں بہتر ہیں اور نہ ملک کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اس طرح کی نفرت سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ اجتماعی طور پر نفرت کا ماحول پیدا ہونے لگ جائے گا۔انہوں نے مکیش امبانی کو مشورہ دیا کہ وہ چینل کے ذریعہ پھیلائی جانے والی نفرت کا از خود مشاہدہ کریں تاکہ انہیں کا احساس ہو کہ اس چینل کا استعمال مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو کس طرح سے نقصان پہنچانے اور خلاف نفرت پھیلانے کیا جا رہاہے۔جنا ب نوید حامد نے کہا کہ اترکھنڈ دھرم سنسد کے نام پر جس طرح کی نفرت پھیلائی گئی ہے اور یہ نفرت کہاں سے پیدا ہوئی اس بات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ اس طرح کے مباحث اور ٹیلی ویژن کی نشریات کے سبب ہی نفرت کا ماحول تیا رہوا ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔