مہاراشٹرا ، ہریانہ میں بی جے پی اقتدار برقرار : ایگزٹ پولس

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔ 21 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی مہاراشٹرا میں زیادہ بڑے خطِ اعتماد کے ساتھ اقتدار پر برقرار رہنے کی توقعات نظر آرہی ہیں ، جہاں وہ شیوسینا کے ساتھ اتحاد میں ہے ، اور ہریانہ میں بھی برسراقتدار بی جے پی کی زبردست کامیابی یقینی معلوم ہوتی ہے ۔ دونوں ریاستوں میں ایگزٹ پولس کی پیش قیاسی کے مطابق بی جے پی کو عمدہ کامیابی مل رہی ہے جبکہ کانگریس زیرقیادت حریفوں کا عملاً صفایا ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پولنگ کے اختتام کے فوری بعد نشر کردہ ایگزٹ پولس میں اگرچہ متوقع نشستوں کے معاملے میں نمایاں فرق ہے لیکن ہر پول میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کی مہاراشٹرا اور ہریانہ میں دوبارہ حکومت کی تشکیل کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ 288 رکنی مہاراشٹرا اسمبلی میں بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد کو 166-194 نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی گئی ہے جو چھ نمایاں ایگزٹ پولس میں سب سے کم عددی طاقت ہے ۔ کانگریس ۔ این سی پی اتحاد کے لئے 72-90 کی تعداد بتائی گئی ہے جبکہ دیگر کے حق میں 22-34 اسمبلی نشستیں ظاہر کی گئی ہیں ۔ بقیہ تمام پانچ پولس میںبی جے پی ۔ شیوسینا اتحاد کو لگ بھگ دو تہائی اکثریت ملنے کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ ہریانہ میں بی جے پی کی جیت مزید بڑی ہونے کی توقع ہے ۔ اے بی پی ۔سی ووٹر نے بی جے پی اور کانگریس کیلئے ترتیب وار 72 اور 8 نشستوں کی پیش قیاسی کی ہے جو اپوزیشن پارٹی کابدترین مظاہرہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ ٹائمس ناؤ سروے نے بی جے پی کو 71 اور کانگریس کو 11 نشستیں دی ہیں ۔ بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم میں نمایاں طورپر آرٹیکل 370کی تنسیخ اور قومی سلامتی کے مسائل اُجاگر کئے جبکہ اس کی ریاستی حکومتوں کے ترقیاتی کاموں کو ثانوی حیثیت دی گئی ۔ 2014 ء میں بی جے پی اور سینا نے ترتیب وار 122 اور 63سیٹیں جیتے تھے جبکہ کانگریس اور این سی پی کو 42 اور 41 نشستیں حاصل ہوئی تھیں ۔ تب تمام چارو ں پارٹیوں نے تنہا مقابلہ کیا تھا ۔ 90 رکنی ہریانہ اسمبلی میں پانچ سال قبل بی جے پی نے 47 اور اُس کے بعد آئی این ایل ڈی نے 19 اور کانگریس نے 15 نشستیں جیتے تھے ۔