یو پی کے ضمنی چناؤ اورجھارکھنڈ اسمبلی کے دوسرے مرحلہ میں بھی آج ہی رائے دہی
ممبئی :مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات کیلئے کل20نومبر کو ایک ہی مرحلہ میں تمام288حلقو ں میں ووٹنگ ہوگی جس کیلئے سخت سکیوریٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔اس الیکشن میں بی جے پی کی زیرقیادت مہاوتی اتحاد اور کانگریس کی قیادت والی مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان سخت مقابلہ کی توقع ہے۔مہاراشٹرا کی 288 اسمبلی سیٹوں پر 20 نومبر 2024 کو رائے دہی ہوگی۔ ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوگی اور شام 6 بجے ختم ہوگی۔ رائے دہندے 4,136 امیدواروں کی قسمت پر کل مہر لگا ئے گے۔ ان امیدواروں میں سے 326 خواتین اور 2 تیسری جنس سے ہیں۔ مہاراشٹرا میں ووٹروں کی کل تعداد 9,70,25,119 ہے۔ 14ویں مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی کی میعاد 26 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ مہاراشٹرا میں جادوئی اعداد و شمار یا سادہ اکثریت 145 ہے۔ اس وقت بی جے پی اور اس کی دیرینہ حلیف شیوسینا نے کانگریس اور شرد پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سے مقابلہ کیا۔مہاراشٹر ااسمبلی انتخابات میں بی جے پی 149 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ اس کے حلیف شیو سینا (شنڈے گروپ) اور این سی پی (اجیت پوار کا گروپ) بالترتیب 81 اور 59 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کر رہے ہیں۔ کانگریس 101 حلقوں پر مقابلہ کر رہی ہے جب کہ اس کی حلیف شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار دھڑے) کے پاس بالترتیب 95 اور 86 سیٹوں پر امیدوار ہیں۔اس کے علاوہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین 288 رکنی اسمبلی میں 17 سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں امیدواروں کی تعداد گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں 28 فیصد بڑھی ہے جبکہ سیاسی پارٹیوں اور باغی امیدواروں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 150 سے زیادہ حلقوں میں مہاوتی اور ایم وی اے اتحاد کے باغی اپنی پارٹی کے سرکاری نامزد امیدواروں کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔ایک انتخابی اہلکار نے بتایا کہ مہاراشٹر اکے ووٹروں کی تعداد بڑھ کر 96,369,410 ہو گئی ہے جو کہ 2019 میں 89,446,211 تھی۔ریاست میں اب 18تا19 سال کی عمر کے 2,093,206 پہلی بار ووٹ دینے والے ہیں۔ 1,243,192 ووٹرز 85 سال سے زیادہ عمر کے ہیں جن میں 47,716 صد سالہ شامل ہیں۔آئندہ انتخابات کے لیے پولنگ بوتھوں کی تعداد بھی بڑھ کر 100,186 ہو گئی ہے جو کہ 2019 میں 96,654 تھی۔20 نومبر کو ووٹنگ کی تکمیل کے بعد ایگزٹ پول کی پیشین گوئیوں کا جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما خطوط کے مطابق، ایگزٹ پول کی پیشین گوئیاں اسی دن شام 6.30 بجے کے بعد نشر کی جا سکتی ہیں۔ دوسری طرف اتر پردیش کے9اسمبلی حلقوں اورناندیڑ لوک سبھا کے ضمنی چناؤ کے علاوہ جھارکھنڈ میں دوسرے اور آخری مرحلے کے انتخابات بھی کل 12 اضلاع کی 38 نشستوں پر ہوں گے۔ اس کے لیے پولنگ ٹیموں کو آج یعنی منگل کو روانہ کر دیا گیا۔ ریاست کے چیف الیکشن آفیسر روی کمار کے مطابق ان انتخابات کے لیے مجموعی طور پر 14,218 پولنگ مراکز قائم کیے گئے ہیں ۔ پولنگ عملے کی نقل و حرکت پر جی پی ایس کے ذریعے نظر رکھی جا رہی ہے۔پولنگ مراکز کی حفاظت کے لیے نیم فوجی دستوں کی 585 کمپنیاں، جھارکھنڈ آرمڈ فورس کی 60 کمپنیاں اور ضلعی پولیس کے ساتھ ہوم گارڈز کے 30,000 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ووٹنگ صبح 7 بجے شروع ہوگی اور 31 حساس مراکز پر شام 4 بجے تک جبکہ دیگر مراکز پر شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔رائے دہندگان کی سہولت کیلئے 48 خصوصی مراکز قائم کیے گئے ہیں جن میں 239 مراکز خواتین عملے کے زیر انتظام ہیں جبکہ 22 مراکز پر معذور عملہ اور 26 مراکز پر نوجوان عملہ ذمہ داریاں نبھائے گا۔اس مرحلے میں 528 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ایک کروڑ 23 لاکھ 58 ہزار 195 ووٹرز کریں گے۔ اہم امیدواروں میں وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین، جھارکھنڈ کے پہلے وزیر اعلیٰ بابولال مرانڈی اور دیگر نمایاں سیاستدان شامل ہیں۔