مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں ایم وی اے کو سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے

   

مراٹھی کے باوقار میڈیا ہاؤس ’سکال‘ کے پری پول سروے میں انکشاف‘سال کے آواخر میں الیکشن

ممبئی : جاریہ سال کے آخر میں یعنی تین ماہ میں مہاراشٹرا اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ اس انتخاب سے قبل مراٹھی کے باوقار میڈیا ہاؤس ’سکال‘ نے ایک پری پول سروے کیا ہے۔ اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسمبلی کے انتخابات میں مہاوکاس اگھاڑی کو مہایوتی سے زیادہ ووٹ مل رہے ہیں اور ریاست کی اگلی حکومت مہاوکاس اگھاڑی کی بننے جا رہی ہے۔ سکال نے اپنے سروے کی یہ رپورٹ 12 جولائی کو شائع کی ہے۔’سکال‘ کے مطابق یہ یہ سروے ریاست کی کل 288 اسمبلی سیٹوں پر کیا گیا ہے۔ اس میں 81,529 رینڈم سَمپلز شامل کیے گئے ہیں جس میں مردوں کی تعداد 68 فیصد ہے اور عورتوں کی 31 فیصد جبکہ ایک فیصد دیگر کو شامل کیا گیا ہے۔ سروے میں پارٹی کی بنیاد پر لوگوں کی پسندیدگی کی بات کریں تو ریاست میں بی جے پی کو سب سے زیاہ حمایت مل رہی ہے یعنی پارٹی کے لحاظ سے بی جے پی کو دیگر پارٹیوں کے بالمقابل زیادہ ووٹ مل رہے ہیں۔ دوسرے نمبر پر شرد پوار کی این سی پی ہے لیکن اتحاد کو ملنے والی حمایت کے لحاظ سے ایم وی اے یعنی مہاوکاس اگھاڑی کو مہایوتی سے زیادہ حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ سروے کے مطابق 48.7 فیصد ووٹروں کا رجحان ایم وی اے کے حق میں ہے جبکہ 33.1 فیصد لوگ مہایوتی کے حق میں ہیں۔ 13.4 فیصد لوگوں نے کوئی موقف ظاہر نہیں کیا ہے اور 4.9 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ ایم وی اے یا مہایوتی میں سے کسی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے ہیں۔ سروے میں جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ ایم وی اے میں جانے کا سب سے زیادہ فائدہ کس پارٹی کو ہوا؟ تو 37.1 فیصد لوگوں نے کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہونے سے سب سے زیادہ فائدہ کانگریس کو ہوا ہے۔ اس کے بعد 30.8 فیصد لوگوں نے کہا کہ تمام ایم وی اے کی پارٹیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ 18.5 فیصد لوگوں نے کہا کہ این سی پی۔شرد پوار کو فائدہ ہوا ہے جبکہ 13.6 فیصد کا کہنا ہے کہ شیو سینا۔ یو بی ٹی کو فائدہ ہوا۔وہیں جب مہایوتی سے متعلق لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے ساتھ ہیں تو 37.2 فیصد لوگوں نے شیو سینا شندے کے گروپ کی حمایت کی۔ 22.9 فیصد لوگوں نے بی جے پی کا انتخاب کیا جبکہ 8.7 فیصد لوگوں نے این سی پی کے اجیت پوار کو اپنی حمایت دی۔ آخر میں 31.1 فیصد لوگوں نے دیگر متبادل کا انتخاب کیا۔ مجموعی طور پر ’سکال‘کے اس سروے کے مطابق مہاراشٹرا میں فی الحال انڈیا الائنس کی مہاوکاس اگھاڑی کافی مضبوط دکھائی دے رہی ہے جبکہ اس کے بالمقابل مہایوتی کافی کمزور نظر آ رہی ہے۔