مہاراشٹرا اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی جوں کی توں برقرار

   

ممبئی: مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں امسال بھی مختلف سیاسی پارٹیوں سے صرف دس ہی مسلم اراکین اسمبلی منتخب ہوئے جو کہ گزشتہ اسمبلی کے مقابلے جوں کے توں ہے جبکہ چارسو سے زائد مسلم امیدواروں نے قسمت آزمائ کی تھی اور ریاست بھر سے 288 نشتوں کے ہوئے انتخابات میں حصہ لینے والے 4,136 امیدواروں کا دس فی صد حصہ ہے ۔51ویں ریاستی اسمبلی میں نئے مسلم۔ اراکین میں کانگریس کے سب سے زیادہ تین امین پٹیل (ممبادیوی)، اسلم شیخ (ملاد) اور ساجد پٹھان (اکولا ویسٹ) شامل ہیں۔ دیگر مسلم ایم ایل اے میں اجیت پوار کی زیرقیادت والی این سی پی سے دو ثنا ملک (انوشکتی نگر) اور حسن مشرف (کگل)، دو سماج وادی پارٹی سے ابو عاصم اعظمی (مانخور۔شیواجی نگر) اور رئیس شیخ (بھیونڈی ایسٹ)،وزیراعلی ایک ناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا سے عبدالستار (سلوڈ)، اسد الدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم کے مفتی محمد اسماعیل عبدالخالق (مالیگاؤں سنٹرل) اور ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت شیو سینا (یو بی ٹی) کے ہارون خان (ورسووا) منتخب ہوئے ہیں ۔ دو موجودہ ایم ایل اے الیکشن ہار گئے جن میں این سی پی کے نواب ملک شامل ہیں جنہیں مانخور شیواجی نگر سے ابوعاصم اعظمی نے شکست دی لیکن انکی بیٹی ثنا ملک نے شرد پوار کی قیادت والی این سی پی (ایس پی) کے امیدوار فہد احمد کے خلاف سیٹ جیتی ہے ۔ دوسرے ذیشان صدیقی ہیں۔ جنہیں کانگریس نے کونسل کے انتخابات میں مبینہ طور پر کراس ووٹنگ کے الزام میں معطل کر دیا تھا لیکن بعد میں وہ این سی پی میں شامل ہو گئے ۔ انہیں شیو سینا (یو بی ٹی) کے ورون سردیسائی نے شکست دی ۔ 2014 اور 2019 کے انتخابات کے بعد 288 رکنی مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں مسلم نمائندگی بالترتیب 9 اور 10 تھی۔