٭ اکثریتی آبادی کو وقف ترمیمی بل پر مباحث میں مصروف رکھنے کا منصوبہ
٭ کارپوریٹس کو فائدہ پہونچانے والے بلز پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے
٭ ریلوے کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کے منصوبوں پر عمل ہوسکتا ہے
٭ بینک کاری قوانین میں بھی تبدیلی کرنے مودی حکومت کی تیاریاں
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔یکم نومبر :مہاراشٹرامیں اسمبلی انتخابات بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ان انتخابات میں اگر پارٹی کو کامیابی مل جاتی ہے تو وہ ملک بھر میں عوام پر نئے بوجھ عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور آئندہ پارلیمنٹ اجلاس میںایسے بل روشناس کرونے کا منصوبہ ہے جو خانگی کمپنیوں کو مزید اختیارات اور عوام کا خون چوسنے کا موقع فراہم کریں گے۔ آئندہ پارلیمنٹ سیشن کے دوران ’وقف ترمیمی بل‘ کے ذریعہ ملک کی فرقہ وارانہ تعصب رکھنے والی اکثریتی آبادی کو خاموش کرواتے ہوئے بلکہ انہیں خوشی کے چند پل فراہم کرنے کے ساتھ حکومت نے جو تیاری کر رکھی ہے وہ انتہائی خطرناک بلوں کو روشناس کروانے کی ہے جو نہ صرف عوام پر معاشی بم گرانے کے مترادف ہیں بلکہ ان بلوں کے ذریعہ ملک کے کارپوریٹ طبقہ کو مزید دولتمند بنانے اور متوسط طبقہ پر نئے ٹیکس عائد کرنے کا سبب ثابت ہونگے۔عالمی معاشی بحران کے دوران ہندوستان واپس لائے گئے سونے کی بات کرکے عوام کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ ہندوستان کی معیشت اس قدر مستحکم ہوچکی ہے کہ جو سونا برطانوی بینکوں میں تھا اس کو مرکز نے واپس لایا ہے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے عالمی معاشی بحران کے علاوہ BRICS چوٹی کانفرنس میں اہم فیصلوں کے پیش نظر 102 ٹن سونا جو لندن بینک میں تھا اسے واپس لانے اقدامات کئے گئے اور عوام کو یہ تاثر دیا جا رہاہے کہ اس سونے کی واپسی کے بعد ہندوستان کی معیشت مستحکم ہوگی جبکہ مشرقی وسطیٰ میں جنگی حالات اور دیگر صورتحال سے تباہ ہونے والی عالمی معیشت کے دوران محض سونا ہی ایک محفوظ سرمایہ ہوگا اسی لئے محفوظ سونے کو ہندوستان نے حاصل کرنے اقدامات کئے ہیںاور ہریانہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی غیر متوقع کامیابی کے بعد اب پارٹی کسی بھی صورت میں مہاراشٹرا میں کامیابی حاصل کرکے ملک کے عوام پر معاشی بوجھ میں اضافہ کے اقدامات کررہی ہے ۔مہاراشٹرا میںبی جے پی کی کامیابی پر ملک میں مہنگائی کے نئے دور کی شروعات ہوگی کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کی بڑی آبادی کو ’وقف ترمیمی بل‘ جیسے متنازعہ بل پر مباحث کیلئے مصروف رکھتے ہوئے معیشت کو مستحکم بنانے کے نام پر کیریج آف گوڈس سی بل یعنی سمندر کے راستہ سے ہندوستانی درآمدات و برآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی کر چکی ہے اور یہ بل روشناس کروایا جاچکا ہے۔ اسی طرح حکومت سے ریلوے ترمیمی بل 2024 بھی تیار کیا جاچکا ہے اور اس بل کے ذریعہ حکومت 1989 کے ریلوے ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ ریلوے کو خانگیانے کی راہ ہموار کرنے جا رہی ہے ۔ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کی جائیدادوں بالخصوص موقوفہ جائیدادوں کو متاثر کریگا اس کیلئے عام متعصب اکثریتی طبقہ خوش ہے لیکن دیگر بل جو کہ عام ہندوستانیوں کو متاثر کرنے والے ہیں ان پر ابھی ہر گوشہ سے خاموشی ہے اور اس پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا جا رہاہے جبکہ یہ بل ہندوستان کی 140 کروڑ کی آبادی کو متاثر کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے بینک کاری قوانین میں ترمیم کا بل متعارف کروایا ہے جو بینک کاری نظام کو متاثر کرنے والا ہے۔ بینکنگ امینڈمنٹ ایکٹ 2024 بھی مہاراشٹرا میں کامیابی پر منحصر ہے۔ اسی طرح حکومت سے مال بردار جہازوں کے ذریعہ منتقل کئے جانے والے سامان کے متعلق ’بل آف لیڈنگ‘ متعارف کروانے کی منصوبہ بندی ہے جبکہ زرعی شعبہ سے متعلق کھاد بل کے علاوہ تخم بل کے ذریعہ خانگی کمپنیوں کو مراعات کی فراہمی کیلئے اقدامات کی منصوبہ بندی ہے ۔ یہ سب اسی صورت ممکن ہوگا جب مہاراشٹرا انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہو ۔ اسی لئے مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات بی جے پی کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہوچکے ہیں اور ان انتخابات میں بی جے پی بہر صورت کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں ہے اور اسی لئے نہ صرف مہاراشٹرا کی سیاسی جماعتوں کی مدد حاصل کی جار ہی ہے بلکہ دیگر جماعتوں کی مدد سے کامیابی کے منصوبہ پر عمل کیا جانے لگا ہے ۔ ہریانہ میں غیر متوقع کامیابی کے بعد بی جے پی دوبارہ اپنی سازشوں پر اتر آئی تاکہ اپنے مقاصد کو حاصل کرکے کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ دیوالی کے دن حکومت نے پکوان گیاس سلینڈر کی قیمتوں میں 62 روپئے اضافہ کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ حکومت کو عوام پر بوجھ عائد کرکے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اقدامات کرنے ہیں اور ان سے گریز نہیں کرے گی کیونکہ عالمی بازار میں تیل کی قیمت میں کمی کے باوجود حکومت سے پٹرول کی قیمتوں میں کسی طرح کی کمی نہ کرکے وہی قیمتیں وصول کی جاتی رہی ہیں اور عوام سے وصولی جانے والی دولت سے کارپوریٹ اداروں کی جیب بھرتی رہی اور اگر مہاراشٹرا میں کامیابی ملتی ہے تو این ڈی اے حکومت ایسے کئی فیصلہ کرے گی جو کہ عوام پر مالی بوجھ عائد کرنے کے مترادف ہوں گے۔