مہاراشٹرا اور ہریانہ اسمبلیوں کیلئے بالترتیب 60اور 65 فیصد پولنگ

   

ممبئی ؍ چندی گڑھ ؍ نئی دہلی ۔ 21 اکتوبر۔ (سیاست ڈاٹ کام) مہاراشٹرا اور ہریانہ اسمبلیوں کے انتخابات کیلئے آج بالترتیب 60.46فیصد اور 65 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ووٹوں کی گنتی 24 اکتوبر کو ہوگی۔ مہاراشٹرا کی 288 رکنی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی ۔شیوسینا اتحاد کو کانگریس ۔ این سی پی اتحاد سے سخت مقابلہ رہا ۔ممبئی میں الیکشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ پولنگ کا قطعی تناسب بڑھ سکتا ہے اور یہ منگل کو دستیاب ہوگا ۔ سب سے زیادہ رائے دہی کولہاپور کے حلقہ کرویر میں 83.2 فیصد درج ہوئی ۔ سب سے کم ووٹرس جنوبی ممبئی کے مصروف علاقے کلابا والی نشست کیلئے ووٹ ڈالنے آئے اور وہاں صرف 40.2 فیصد پولنگ ریکارڈہوئی۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں اس مغربی ریاست میں 63.38 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی ۔ ریاست کے دیہی علاقوں میں بہتر پولنگ دیکھنے میں آئی جہاں شہری ووٹرس کے مقابل زیادہ جوش و خروش سے رائے دہندوں نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ نامور ووٹرس میں سربراہ آر ایس ایس موہن بھاگوت ، چیف منسٹر دیویندر فڈنویس ، سربراہ این سی پی شردپوار ، صدر شیوسینا اُدھو ٹھاکرے ، کرکٹر سچن تنڈولکر ، سابق صدر پرتیبھا پاٹل اور سربراہ ایم این ایس راج ٹھاکرے شامل ہیں۔ بالی ووڈ والوں نے بھی ووٹ ڈالے ۔ ہریانہ کے بعض اضلاع میں پولنگ کے دوران پتھراؤ اور گروہی تصادم کے معمولی واقعات پیش آئے ۔ ہریانہ کی 90 رکنی اسمبلی میں حکمراں بی جے پی کا کانگریس اور علاقائی جماعتوں سے مقابلہ رہا ۔ گجرات میں چھ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے 51 فیصد ووٹ ڈالے گئے ۔ مدھیہ پردیش کے جابھوااسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب کیلئے 62 فیصد ووٹ ڈالے گئے جہاں 92سالہ احمد حسین نے کیلاش مارگ کے پولنگ بوتھ پر اپنے پوتے فیروز کے ساتھ پہونچکر ووٹ دیا ۔ پنجاب کے چار اسمبلی حلقوں پھگواڑہ ، جلال آباد ، ڈاکھا اور مکھریان میں اوسطاً 60فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ۔ چھتیس گڑھ میں نکسلائیٹس سے متاثرہ چتراکوٹ اسمبلی حلقہ میں 74.39 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ کیرالا کے پانچ اسمبلی حلقوں میں بارش کے باوجود رائے دہی جاری رہی ۔ کاسرکوڈ کے منجیشورم میں ایک خاتون کو تلبیس شخصی کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ۔