مہاراشٹرا: ایم ایل سی انتخاب میں برسر اقتدار اتحاد کو جھٹکا

   

ممبئی: مہاراشٹرا میں ہوئے ٹیچرس اینڈ گریجویٹ انتخابی حلقوں کے دو سالہ ایم ایل سی الیکشن انتخابات میں اپوزیشن ایم وی اے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس انتخاب میں بی جے پی۔شندے اتحاد کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ ناگپور میں تو بی جے پی کا صفایا ہی ہو گیا۔ پانچ ایم ایل سی سیٹوں کیلئے ہوئے انتخاب میں مہاوکاس اگھاڑی کو تین سیٹیں ملی ہیں اور بی جے پی کا صرف ایک امیدوار انتخاب جیتنے مین کامیاب ہو پایا۔ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کو کامیابی ملی۔ ناگپور ٹیچر کوٹہ کی ایم ایل سی سیٹ پر اگھاڑی کے سدھاکر ادبولے نے بی جے پی کے ناگو گانار کو 7 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا ہے۔ اڈبلے کو 16700 ووٹ ملے جبکہ گانار کو 8211 ووٹ ملے۔ اورنگ آباد ٹیچر ایم ایل سی سیٹ سے این سی پی کے امیدوار وکرم کالے نے جیت درج کی ہے۔وکرم کالے کو 20195 ووٹ ملے۔ وہیں امراوتی گریجویٹ سیٹ پر سب سے بڑا الٹ پھیر ہوا۔ یہاں سے کانگریس امیدوار دھیرج لنگاڈے نے جیت درج کی ہے۔ دھیرج نے بی جے پی امیدوار رنجیت پاٹل کو ہرایا۔ناسک بلاک کی گریجویٹ ایم ایل سی سیٹ پر کانگریس کے باغی امیدوار ستیہ جیت تانبے جیت گئے۔ کانگریس نے تانبے کے والد سدھیر تانبے کو اپنا آفیشیل امیدوار بنایا تھا، جو تین بار سے ایم ایل سی کا انتخاب جیتتے رہے تھے۔