مہاراشٹرا ‘ سینئر بی جے پی قائدین کھڈسے ‘ تاوڑے و دیگر ٹکٹ سے محروم

   

Ferty9 Clinic

نئے چہروں کو موقع ۔ کھڈسے کی دختر مکتائی نگر سے امیدوار ۔ دو ریاستی وزراء بھی ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام
ممبئی 4 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی نے آج مہاراشٹرا میں 21 اکٹوبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کیلئے اپنے سات امیدواروں کی چوتھی فہرست جاری کردی ہے تاہم اس میں کچھ اہم قائدین کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ سینئر لیلار ایکناتھ کھڈسے اور ریاستی وزیر ونود تاوڑے کو پارٹی نے ٹکٹ سے محروم کردیا ہے ۔ پارٹی نے ایکناتھ کھڈسے کی دختر روہنی کو ان کے مکتائی نگر حلقہ سے امیدوار نامزد کیا ہے ۔ کھڈسے مکتائی نگر حلقہ کی 1991 سے نمائندگی کر رہے تھے ۔ ان کی جگہ اب ان کی دختر روہنی کو ٹکٹ دیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی ایکناتھ کھڈسے کو منانے میں کامیاب ہوگئی ہے ۔ وزیر توانائی چندر شیکھر بوان کولے ‘ سینئر قائدین پرکاش مہتا اور راج پروہت کو بھی ٹکٹ سے محروم کردیا گیا ہے اور ان کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ پارٹی نے ونود تاوڑے کو بھی ٹکٹ سے محروم کردیا ہے جن کے پاس سبکدوش ہونے والی حکومت میں تعلیم کا قلمدان تھا ۔ ممبئی میں بورویلی حلقہ سے تاوڑے کی بجائے سنیل رانے کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ راج پروہت پارٹی کے قلابہ حلقہ کے موجودہ رکن اسمبلی ہیں اور ان کی بجائے اس حلقہ سے راہول نرویکر کو ٹکٹ دیا گیا ہے جو مہاراشٹرا قانون ساز کونسل کے صدر نشین رام راجے نمبالکر کے داماد ہیں۔ نرویکر سابق این سی پی ایم ایل سی ہیں جنہوں نے حال ہی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی ۔

پرکاش مہتا کی بجائے گھاٹ کوپر ایسٹ سے پارٹی کارپوریٹر پراگ شاہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے ۔ مسٹر مہتا سابق وزیر ہیں۔ بوان کولے ناگپور ضلع میں کامٹی حلقہ سے موجودہ رکن اسمبلی ہیں۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی کے سینئر قائدین میں شمار کئے جانے والے ایکناتھ کھڈسے کو پارٹی میں اس وقت سے نظر انداز کیا جانے لگا ہے جب ان کے دور وزارت میں رشوت ستانی کے الزامات سامنے آئے تھے ۔ ان پر ایک اراضی معاملت میں ملوث رہنے کا بھی الزام ہے ۔ انہیں 2016 میں وزیر مال کی حیثیت سے مستعفی ہونا پڑا تھا اور بعد میں انہیں چیف منسٹر فرنویس کی کابینہ میں دوبارہ شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ مسٹر کھڈسے پر یہ واضح کردیا گیا تھا کہ انہیں اس بار پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائیگا ۔ مسٹر کھڈسے نے جاریہ ہفتے ہی اس حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا ۔ بی جے پی نے ریاست میں 288 رکنی اسمبلی کیلئے اپنے 150 امیدواروں کا اعلان کردیا ہے ۔ ریاست میں بی جے پی اور شیوسینا کے مابین اتحاد ہے اور شیوسینا کو 124 نشستیں دی گئی ہیں۔ دونوں جماعتوں نے اپنے نشستوں کی تقسیم کے فارمولے کا باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا تھا ۔ آج پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کا آخری دن تھا اور 5 اکٹوبر کو ان کی جانچ کی جائیگی اور پرچے 7 اکٹوبر تک واپس لئے جاسکتے ہیں۔ شیوسینیا ۔ بی جے پی اتحاد نے کچھ نشستیں اپنی چھوٹی حلیف جماعتوں کو چھوڑ دی ہیں جن میں آر پی آئی اے گروپ بھی شامل ہے ۔ 24 اکٹوبر کو نتائج کا اعلان کیا جائیگا۔