مہاراشٹرا میں اپوزیشن کے اجلاس سے ‘ 23 ارکان اسمبلی غیر حاضر

,

   

کانگریس ‘ این سی پی اور شیوسینا یو بی ٹی ارکان شامل ۔ ادھو ٹھاکرے کا اظہار ناراضگی
ممبئی ، 25 جون (یو این آئی) مہاراشٹرا میں مہاوکاس اگھاڑی کو اس وقت اندرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا جب اسمبلی کے مانسون اجلاس کیلئے اپوزیشن کی حکمت عملی طے کرنے اہم اجلاس میں اتحاد کے 23 ارکانِ اسمبلی غیر حاضر رہے ۔ کثیر تعداد میں سینئر رہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی کی عدم موجودگی کے بعد سیاسی حلقوں میں اتحاد کے اندر تال میل اور یکجہتی کے تعلق سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔اور ایم وی اے ذرائع کے مطابق شیوسینا (ادھو ٹھاکرے ) سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرکے اتحاد میں ہم آہنگی پر سوالات اٹھائے ۔غیر حاضر 23 ارکان میں سے 16 کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان میں کانگریس کے نانا پٹولے اور وجئے وڈیٹیوار، این سی پی (شرد پوار) کے جینت پاٹل، کانگریس کے امت دیشمکھ، اسلم شیخ، وشواجیت کدم اور وکاس ٹھاکرے ، این سی پی (ایس پی) کے روہت پوار، سندیپ کشیرساگر اور ابھیجیت پاٹل، جبکہ شیوسینا (یو بی ٹی) کے سنیل راؤت، گجانن لاواٹے ، باباجی کالے ، راہول پاٹل اور سنجے داریکر شامل ہیں۔این سی پی (ایس پی) کے رہنما جینت پاٹل نے اپنی غیر حاضری پر کہا کہ میٹنگ پہلے 23 جون کو طے تھی، لیکن بعد میں اچانک 24 جون کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 24 جون کو ان کی پہلے سے طے شدہ نجی مصروفیات تھیں اور انہوں نے اس پر قائدِ حزب اختلاف امباداس دانوے کو مطلع کر دیا تھا۔ کانگریس رہنما وجئے وڈیٹیوار نے اپنی غیر حاضری کی وجہ صحت کے مسائل بتائی، جبکہ نانا پٹولے نے ذاتی مصروفیات کا حوالہ دیا۔شیوسینا (یو بی ٹی) رکن سنیل راؤت نے کہا کہ شدید بارش کے بعد ان کے حلقے میں تقریباً 300 میٹر طویل حفاظتی دیوار گر گئی تھی، جس کے باعث وہ امدادی کاموں میں مصروف تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی غیر حاضری کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ پارٹی سے بے وفائی کر رہے ہیں۔ کانگریس رکن اسمبلی وکاس ٹھاکرے نے کہا کہ انہوں نے اپنی پیشگی مصروفیات سے سی ایل پی کو آگاہ کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام ارکان ایم وی اے کے ساتھ ہیں اور روزانہ ودھان بھون کی سیڑھیوں پر حکومت کے خلاف احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں، اس لیے اتحاد میں اختلافات کی کوئی بات نہیں ہے ۔