مہاراشٹرا میں داعش کے عناصر بے نقاب ، 4 گرفتاریاں

   

ممبئی، تھانے اور پونے میں 5 مقامات پر این آئی اے کے چھاپے ، بڑی کامیابی کا دعویٰ

ممبئی: این آئی اے نے گزشتہ روز مہاراشٹرا میں بڑی کارروائی کی ہے ۔ این آئی اے نے ممبئی، تھانے اور پونے میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے جس کے بعد چار افراد کو گرفتار کرکے دہشت گرد تنظیم داعش کے ماڈیول کا پردہ فاش کرنے کہا دعوی کیا ہے ۔ این آئی اے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ چھاپے انٹلی جنس کی مخصوص معلومات کی بنیاد پر مارے گئے ۔ اس کے بعد جنوبی ممبئی کے ناگپاڑہ سے تابش ناصر صدیقی، پونے کے کونڈھوا سے زبیر نور محمد شیخ عرف ابو نصیبہ اور ممبئی سے متصل تھانے ضلع کے پڑگھا علاقے سے شرجیل شیخ اور ذوالفقار علی بڑوداوالا کو گرفتار کیا گیا۔اپنے بیان میں این آئی اے نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس کے مہاراشٹرا ماڈیول کے سلسلے میں این آئی اے کے ذریعہ 28 جون کو ایک کیس کے اندراج کے بعد پانچ مقامات پر متعلقہ افراد کے گھروں کی تلاشی لی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ این آئی اے کی مختلف ٹیموں نے ملزمین کے گھروں کی تلاشی لی۔ اس دوران کئی قابل اعتراض مواد بشمول ‘الیکٹرانک آلات اور داعش سے متعلق دستاویزات ضبط کی گئیں۔این آئی اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ضبط شدہ مواد سے واضح طور پر داعش کے ساتھ ملزمین کے تعلقات کا انکشاف ہوا ہے ۔ ضبط شدہ مواد دہشت گرد تنظیم کے بھارت مخالف ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے نوجوانوں کو تحریک میں شامل ہونے کی ان کی کوششوں کو بے نقاب کرتا ہے ۔ این آئی اے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمین نے آئی ایس آئی ایس کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی سازش رچی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمین ملک کے اتحاد، سالمیت، سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ وہ مہاراشٹرا میں ’سلیپر سیل‘ بنا کر آئی ایس آئی ایس کی سازش کے تحت حکومت ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہے تھے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ NIA کے چھاپے ایسی اطلاعات کے بعد مارے گئے کہ ملزم تابش ، زبیر ، شرجیل اور ذوالفقار اور ان کے ساتھیوں نے نوجوانوں کو بھرتی کیا اور انہیں دھماکہ خیز آلات اور ہتھیار بنانے کی تربیت دی۔این آئی اے نے کہا کہ ملزم نے آئی ای ڈی اور چھوٹے ہتھیار اور پستول بنانے کے لیے ‘ڈو اٹ یور سیلف (DIY) کٹس سمیت مواد بھی شیئر کیا تھا۔ اس کے علاوہ، داعش کے اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ہدایات پر ملزمین نے اشتعال انگیز میڈیا مواد بھی تیار کیا تھا۔ یہ ممنوعہ تنظیم کے دہشت گردی اور تشدد کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے میگزین ’وائس آف ہند‘ میں شائع کیا گیا تھا۔