مہاراشٹرا میں شیو سینا کے انتخابی نشان کا مسئلہ

,

   

دونوں گروپس کو 8اگست تک دستاویز جمع کرنے الیکشن کمیشن کی ہدایت
نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شنڈے کی قیادت والے شیو سینا کے دونوں گروپوں سے پارٹی کے انتخابی نشان پر ان کے دعووں کی حمایت میں آٹھ اگست تک اپنے دستاویز جمع کرانے کو کہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق سے دستاویز جمع کرانے کے لئے کہا گیا ہے، جن میں پارٹی کی قانون اور تنظیمی اکائیوں سے حمایتی خط اور مخالف گروپوں کے تحریری بیان شامل ہیں۔اس ہفتے شیو سینا کے شنڈے گروپ نے کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا ‘دھنش۔بان‘ انتخابی نشان اسے دینے کی گزارش کی تھی۔ شندے گروپ نے اس کے لئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔ واضح رہے کہ شیو سینا گزشتہ ماہ اس وقت دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی، جب اس کے دو تہائی سے زیادہ اراکین اسمبلی نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹرا حکومت سے بغاوت کردی تھی اور شنڈے کی حمایت کی تھی۔شنڈے نے 30 جون کو بی جے پی کے تعاون سے مہارشٹر اکے چیف منسٹر کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ گزشتہ منگل کو لوک سبھا میں شیو سینا کے 18 میں سے کم از کم 12 اراکین پارلیمنٹ نے ایوان کے لیڈر ونائک راوت کے تئیں عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور راہول شیوالے کو اپنا لیڈر اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا اسپیکر نے اسی دن شیوالے کو لیڈر کے طور پر منظوری دے دی تھی۔یہ یقینی بنانے کے لئے کوئی بھی گروپ اطلاع سے محروم نہ رہے، الیکشن کمیشن نے گزشتہ دو دنوں میں دونوں گروپوں کے ذریعہ سونپے گئے دستاویز کے شیئرنگ کی ہدایات دی ہیں جوانتخابی نشان سے متعلق دعویٰ اس لئے اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو مہاراشٹر اکے ریاستی الیکشن کمیشن کو دو ہفتے کے اندر مقامی بلدیاتی انتخابات کے لئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔