مساجد اور عوامی مقامات پر افطار اور نماز کی ممانعت۔ آن لائن خطبات کی ترغیب
ممبئی: حکومت مہاراشٹرا نے گزشتہ شب ایک حکم نامی جی آر جاری کرتے ہوئے ماہ رمضان کے لیے سخت ہدایات،مسجد اور عوامی مقامات پر افطار اور نماز کی ممانعت کے دی ہے ۔جسکے مطابق نماز کی ادائیگی اور روزہ افطار (رمضان سے متعلق تمام سرگرمیاں) گھروں میں کی جانی چاہئے ۔ احکام میں مزید کہاہے کہ مساجد،اور کھلی ؍ عام جگہوں پرنہیں کی جائے ،مساجد میں امام اور مؤذن وخدام ہی نماز اداکریں۔کیونکہ ایک جگہ پر 5سے زیادہ افراد جمع نہیں ہوسکتے ہیں۔ معاشرتی دوری ؍ ماسک پہننے وغیرہ پر عمل کرنا چاہئے ۔ رمضان کو سادگی سے منایا جائے ۔جبکہ. افطار اور سحری کے وقت رمضان کے دوران جب لوگ پھل اور دیگر اشیائے خوردونوش خریدنے کے لئے جمع ہوجاتے ہیں ، تو اس طرح کی صورتحال کو مقامی حکام کے ذریعہ سنبھالا جائے ، اور اس کا صحیح حل نکالاجائے ۔واضح رہے کہ فی الحال حکومت نے 30اپریل تک دفعہ 144کانفاذ ،رات کا کرفیواور ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذکیا ہے ،لیکن شاید پرانے جی آ ر کو معمولی تبدیلی کے ساتھ کردیا ہے، کیونکہ اس میں الوداع جمعہ اور شب قدر کا بھی ذکر کردیا گیا ہے اور نمازوں کی ادائیگی کے لیے گھر کا راستہ دکھا دیاگیا ہے ۔کہاگہا ہے کہ مساجد میں اس کی اجازت نہیں ہوگی۔جی آر کے مطابق رمضان خریداری کے لیے ، کسی خاص جگہ پر جمع نہ ہوں۔ اس کے لئے وقت اور پابندیاں ، جن کی پیروی کے لئے مقامی حکام نے مقرر کی ہوں۔جمعہ اور ماہ رمضان کے خطبات وغیرہ آن لائن انجام دیئے جائیں ۔کیونکہ کوویڈ ۔19 کی وجہ سے ، آئی پی سی 144 نائٹ کرفیو نافذ ہے ، لہٰذا ہاکرز کوسڑکوں پر اسٹالوں کی اجازت نہیں ہے اور شہریوں کو غیر ضروری طور پرجمع نہیں ہونا چاہئے۔ اس درمیان مذہبی ، ثقافتی ، معاشرتی ، مذہبی اور سیاسی اجتماعات ممنوع ہیں۔چونکہ مذہبی مقامات بند ہیں ، لہٰذا مذہبی رہنما (مولوی) ، سماجی کارکن ، سیاسی رہنما ، این جی اوز وغیرہ رمضان کے مشاہدے کے بارے میں سادگی کے ساتھ بیداری پیدا کرنے کے لئے ایک ذرائع کے طور پر کام کریں۔ہدایت دی گئی ہے کہ رمضان کے دوران ، سماجی دوری ، ماسک اور دیگر ہدایات کی سختی سے پیروی کی جانی چاہئے۔ اس درمیان وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ، بی ایم سی ، پولیس ، صحت اور مقامی حکام سمیت متعلقہ محکموں کے ذریعہ نافذ کردہ تمام قواعد پر عمل کیا جائے ۔رمضان کے دوران حکومت کی ہدایات کے ذریعہ شائع ہونے والی کسی بھی دوسری پابندیوں ؍ قواعد کی پیروی کی جانی چاہئے ۔
