محکمہ سماجی انصاف کی جانب سے سرکاری حکم جاری، تمام سابقہ احکامات اور سرکولرز واپس لے لئے گئے
ممبئی ، 18 فروری (یو این آئی) ریاستی حکومت نے مسلمانوں کے لیے مختص 5 فیصد ریزرویشن منسوخ کر دیا جو جولائی 2014 میں سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کو سرکاری اور نیم سرکاری ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے دیا گیا تھا۔ سماجی انصاف و خصوصی امداد محکمہ نے منگل کی دیر شام یعنی 17 فروری 2026 کو ایک سرکاری قرارداد جاری کرتے ہوئے اسپیشل بیک ورڈ کیٹیگری-اے (ایس بی سی-اے ) کے تحت دیے گئے کوٹے سے متعلق تمام سابقہ احکامات، سرکولرز اور فیصلوں کو واضح طور پر واپس لے لیا۔ اس قرارداد کے تحت اس زمرے سے تعلق رکھنے والے اہل افراد کو ذات کے سرٹیفکیٹ اور ذات کی توثیقی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا عمل بھی روک دیا گیا ہے ۔ نئی قرارداد کے مطابق 5 فی صد کوٹہ، جو اُس وقت کی کانگریس-این سی پی حکومت نے مہاراشٹر آرڈیننس نمبر 14 آف 2014 کے ذریعے نافذ کیا تھا، اپنی قانونی حیثیت کھو چکا ہے ۔ یہ آرڈیننس ریاستی مقننہ سے مقررہ چھ ماہ کی مدت کے اندر ایکٹ کی شکل اختیار نہ کر سکا اور 23 دسمبر 2014 کو خود بخود منسوخ ہو گیا۔ بعد ازاں 14 نومبر 2014 کو بامبے ہائی کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں اس کے نفاذ پر عبوری روک لگا دی تھی، جبکہ سپریم کورٹ نے منسلک معاملات میں اس سے متعلق پہلوؤں کو کالعدم قرار دیا تھا۔ سینئر سرکاری عہدیداروں نے واضح کیا کہ حالیہ سرکاری قرارداد کوئی نئی پالیسی نہیں بلکہ موجودہ قانونی صورتِ حال کے مطابق سرکاری ریکارڈ کو ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک انتظامی تصحیح ہے ۔ ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ عدالتی مداخلت اور آرڈیننس کے خاتمے کے باعث یہ کوٹہ کبھی عملی طور پر نافذ نہیں ہو سکا تھا، اس لیے یہ قرارداد محض موجودہ حقیقت کو تسلیم کرتی ہے اور کالعدم دفعات کی بنیاد پر مزید کسی انتظامی اقدام کو روکتی ہے۔ جولائی 2014 کے آرڈیننس کے تحت بعض مسلم گروہوں کو سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ قرار دے کر محکموں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ضروری سرٹیفکیٹس جاری کریں تاکہ مستحقین براہِ راست ملازمتوں اور تعلیمی داخلوں میں 5 فیصد ریزرویشن سے فائدہ اٹھا سکیں۔ تاہم عدالتی حکمِ امتناع اور آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کے باعث یہ شق ایک دہائی سے زائد عرصے تک غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی اور عملی طور پر نافذ نہ ہو سکی۔
اس فیصلے پر کانگریس پارٹی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ بدھ کو پارٹی نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسلم برادری کے حقوق پر “شدید ضرب” قرار دیا۔ ایک سینئر کانگریس رہنما نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مہاراشٹر آرڈیننس نمبر 14 آف 2014 کے تحت سماجی و تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم طبقات کو 5 فی صد ریزرویشن فراہم کیا گیا تھا، لیکن حکومت نے 2014 کے ریزرویشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مثبت اقدامات کرنے کے بجائے ہائی کورٹ کے عبوری حکم اور آرڈیننس کی میعاد ختم ہونے کا حوالہ دے کر پرانے عمل کو ہی ختم کر دیا۔
پارٹی نے مہایوتی حکومت پر اقلیتی فلاح کے معاملے میں پسپائی اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور سوال اٹھایا کہ اس مرحلے پر پرانی سرکاری قراردادوں اور سرکولرز کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ معاملہ پہلے ہی طویل عرصے سے قانونی پیچیدگی میں پھنسا ہوا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ہزاروں طلبہ اور ملازمت کے خواہش مند متاثر ہوں گے جو بعض اضلاع میں زیرِ کارروائی ذات کے سرٹیفکیٹس کے ذریعے اس زمرے کے تحت فوائد حاصل کرنے کی امید رکھے ہوئے تھے ۔
سماجی انصاف محکمہ کی نائب سکریٹری ورشا دیشمکھ کے دستخط سے جاری یہ قرارداد پوری ریاست میں نافذ العمل ہوگی۔ اس میں جنرل ایڈمنسٹریشن، ہائر اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اسکول ایجوکیشن سمیت تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 2014 کی دفعات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی کارروائی فوری طور پر بند کر دیں۔
یہ اقدام فڑنویس کی قیادت والی حکومت کی جانب سے ریزرویشن پالیسیوں کو عدالتی فیصلوں سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے کی تازہ کڑی قرار دیا جا رہا ہے ۔ آئندہ انتخابی مقابلوں سے قبل ریاست میں ریزرویشن اور اقلیتی فلاح کے موضوع پر سیاسی بحث میں مزید شدت آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔