مہاراشٹرا میں کورونا کے پھیلاوکو روکنے نئی تحدیدات زیر غور

   

مساجد میں مصلیوں کی مرحلہ وار آمد کی اجازت ۔ ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی
حیدرآباد۔ مہاراشٹر ا میں کئی اضلاع میں رات کے کرفیو کے علاوہ کئی تحدیدات عائد کرنے کا فیصلہ کیا جاچکا ہے ۔ کورونا مریضوں کی تعداد اضافہ کو دیکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے تعطیلات کے موقع پر تحدیدات کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ مساجد میں مرحلہ وار مصلیوں کی آمد کی شرط رکھی گئی ہے اور کسی بھی قسم کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ مہاراشٹرا میں حکومت سے تمام اضلاع انتظامیہ کو ملی ہدایات کے مطابق ضلع انتظامیہ سے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے سخت اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ گذشتہ ماہ کے اواخر سے رات کے کرفیو کا کئی اضلاع میں آغاز ہوچکا ہے اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔ انتظامیہ کو حکومت سے ہدایت دی گئی کہ وہ کورونا کے مریضوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہاٹ اسپاٹ اور تحدیدات کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کریں۔ امراوتی‘ یوتمال ‘ اورنگ آباد کے علاوہ دیگر اضلاع میں رات کا کرفیو جاری ہے ۔ بعض دیگر اضلاع میں بالخصوص پونے کے بازاروں میں کورونا س کو پھیلنے سے روکنے رہنمایانہ خطوط پر عمل کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کی کوشش کی جا رہی ہے کہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ انہیں ماسک کے لزوم کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کا عادی بنایا جائے اور جو لوگ ان پر عمل نہیں کر رہے ہیں انہیں بھاری چالانات کئے جا رہے ہیں ۔ ان چالانات میں مزید اضافہ کا اختیار حکومت سے ضلع انتظامیہ کو دینے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت نے تمام ضلع کلکٹرس کو ہدایت دی کہ ضرورت محسوس ہونے پر وہ رات کے کرفیو کے علاوہ نئی تحدیدات عائد کرنے کیلئے تیار رہیں ۔ وزیر صحت نے بھی یہ واضح کیا کہ حکومت ضرورت پڑنے پر جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرے گی۔مہاراشٹرا میں ایک بعد دیگر اضلاع میں رات کے کرفیو کے علاوہ جزوی لاک ڈاؤن میں تیزی پیدا ہونے لگی ہے جو کہ پڑوسی ریاستو ںکیلئے تشویش کا باعث ہیں لیکن تلنگانہ میں محکمہ صحت سے یہی کہا جار ہاہے کہ عہدیدار صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن مہاراشٹر ا سے تلنگانہ میں داخل ہونے والوں کی جانچ کے سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔