نئی دہلی ۔ 25 نومبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ دیویندر فڈنویس کی بحیثیت چیف منسٹر حلف برداری کے گورنر مہاراشٹرا کے فیصلے کے خلاف شیوسینا ، این سی پی اور کانگریس کی مشترکہ درخواست پر وہ اپنا فیصلہ منگل کی صبح 10:30 بجے سنائے گی ۔ جسٹس این وی رمنا ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس سنجیو کھنہ پر مشتمل سپریم کورٹ بنچ توقع ہے کہ منگل کو فلور ٹسٹ کا حکم بھی دے جس میں جماعتوں کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع حاصل ہوگا ۔ تینوں جماعتوں نے چیف منسٹر فڈنویس اور ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کی مخالفت کرتے ہوئے آج ہی یعنی پیر کو فلور ٹسٹ کا حکم دینے کا عدالت سے مطالبہ کیا ۔ سپریم کورٹ نے منگل تک فیصلہ محفوظ رکھا۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ مہاراشٹرا میں حکومت سازی کے لئے این سی پی کے تمام 54 ارکان اسمبلی کی بی جے پی کو تائید حاصل ہے ۔ عدالت عظمیٰ میں آج صبح کارروائی کے آغاز پر ہی تشارمہتا نے گورنر اور فڈنویس کے مکتوبات داخل کئے ۔ شیوسینا کے وکیل کی حیثیت سے کپل سبل نے آج سپریم کورٹ میں بی جے پی کے وکیل کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ تینوں جماعتوں کے پاس مہاراشٹرا کے 154 ارکان اسمبلی کے حلفنامے ہیں اور اگر بی جے پی کے پاس مطلوبہ ارکان ہیں تو وہ اندرون 24 گھنٹے اپنی اکثریت ثابت کرے ۔ شیوسینا نے گورنر کی جانب سے ہفتہ کی علی الصبح ریاست سے صدر راج برخاست کرنے کے فیصلے کے خلاف ہفتہ کو ہی ایک درخواست داخل کی تھی ۔ مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ کو بتایا کہ گورنر کو ریاست میں حکومت سازی کے لئے بڑی جماعتوں کو دعوت دینے کااختیار حاصل ہے ۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ یہ گورنر کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس بات کی انکوائری کرے کہ کس جماعت کے پاس حکومت سازی کے لئے مطلوبہ ارکان ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی پارٹی اندرون 24 گھنٹے فلور ٹسٹ کے لئے عدالت کی مداخلت کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ سینئر وکیل منندر سنگھ نے اجیت پوار کی وکالت کی اور عدالت کو بتایا کہ گورنر نے حکومت سازی کیلئے فڈنویس کو دعوت دیکر صحیح اقدام کیا ہے۔ کپل سبل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ تینوں جماعتوں کی جانب سے اُدھو ٹھاکرے کے مہاراشٹرا کے اگلے چیف منسٹر ہونے کا اعلان کردیا گیا تھا ۔ ان حالات میں صبح 5:27 بجے صدر راج برخاست کرنے کی نیشنل ایمرجنسی کہاں تھی؟ این سی پی اور کانگریس کے وکیل ابھیشک سنگھوی نے اس کو اپنی نوعیت کی بدترین دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ این سی پی کا صرف ایک رکن اسمبلی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ بی جے پی کے ساتھ جائے گا ۔