مراٹھا طبقہ کو تعلیم اور روزگار میں 10 فیصد تحفظات کیلئے مہاراشٹرا حکومت کا اعلان
حیدرآباد۔ مہاراشٹرا حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے مراٹھا طبقہ کو تعلیم اور روزگار میں 10 فیصد تحفظات کا اعلان کیا ہے۔ معاشی طور پر پسماندہ زمرہ (EWS) کے تحت یہ تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ ریاست میں مراٹھا طبقہ میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کیلئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 5 مئی کو مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے مراٹھا طبقہ کو دیئے گئے 13 فیصد تحفظات کو کالعدم کردیا تھا۔ حکومت نے 13 فیصد کے بجائے 10 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے سرکاری قرارداد منظور کی ہے۔ اس فیصلہ کے تحت تعلیمی اداروں اور سرکاری محکمہ جات میں مراٹھا طبقہ معاشی پسماندگی کی بنیاد پر 10 فیصد تحفظات کا اہل رہے گا۔ 2018 میں حکومت نے 13 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ تحفظات کی مجموعی حد 50 فیصد ہے لہذا اس سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2019 میں معاشی طور پر پسماندہ افراد کو تعلیم اور روزگار میں 10 فیصد تحفظات کا اعلان کیا ہے۔ شیو سینا اور کانگریس کی حکومت تحفظات کے معاملہ میں کسی بھی طبقہ کو ناراض کرنا نہیں چاہتی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ مہاراشٹرا کی طرز پر تلنگانہ حکومت بھی مسلمانوں کیلئے وعدہ کے مطابق 12 فیصد تحفظات پر عمل آوری کے احکامات جاری کرسکتی ہے۔ کے سی آر نے برسر اقتدار آنے کے چار ماہ میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بہانہ بناکر اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔