مہاراشٹر اسمبلی اسپیکر کا فیصلہ تنازعہ کا شکار

   

اجیت پوار کے 40 اراکین اسمبلی کو سپریم کورٹ کی نوٹس
ممبئی :شرد پوار گروپ کی ایک درخواست پر سپریم کورٹ نے آج اجیت پوار اور ان کے 40 اراکین اسمبلی کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے۔ دراصل شرد پوار گروپ نے مہاراشٹرا اسمبلی اسپیکر راہول نارویکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں نائب وزیر اعلیٰ کی قیادت والے گروپ کو حقیقی این سی پی قرار دیا گیا تھا۔اس عرضی پر آج چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ، جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے سماعت کی۔ بنچ نے شرد پوار گروپ کی طرف سے پیش سینئر وکیل ابھشیک منو سنگھوی کی دلیلوں پر غور کیا کہ ریاستی اسمبلی میں بچی ہوئی چھوٹی مدت کار کو توجہ میں رکھتے ہوئے عرضی پر فوری سماعت کی ضرورت ہے۔قابل ذکر ہے کہ ریاستی اسمبلی کی مدت کار رواں سال نومبر میں ختم ہو رہی ہے۔ اس لیے ایڈووکیٹ ابھشیک منو سنگھوی کی باتوں پر غور کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ حقیقی شیوسینا معاملے میں اسپیکر کے فیصلے پر ادھو ٹھاکرے گروپ کی عرضی پر سماعت ہوگی پھر اس کے بعد شرد پوار گروپ کی عرضی پر سماعت کی جائے گی۔ دراصل ادھو ٹھاکرے گروپ نے بھی چیف منسٹرایکناتھ شندے اور ان کے اراکین اسمبلی کے حق میں اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسی طرح کی ایک عرضی داخل کی ہے۔ مہاراشٹرا میں جاریہ سال کے آواخر میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں جس کیلئے تمام سیاسی جماعتوں نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔مہا وکاس اگھاڑی کی اتحادی جماعتوں اور بی جے پی میں سخت مقابلہ کی توقعات کی جارہی ہیں۔