مہاویر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کی اراضی پوری ملکیت کی ہوگئی

   

دو دن میں جی او کی اجرائی، کمیٹی کا چیف منسٹر سے اظہارتشکر

حیدرآباد ۔ 27 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مہاویر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر کی زمین کو اس کی پوری ملکیت کی اراضی بنانے کو منظوری دی ہے جو پہلے لیز اراضی تھی۔ مہاویر ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سنٹر منیجنگ کمیٹی نے اس ٹرسٹ کے تحت 14500 مربع گز اراضی کیلئے دائمی مالکانہ حقوق کو منظوری دینے پر چیف منسٹر کے سی آر سے اظہارتشکر کیا۔ ملاحظہ ہو جی او نمبر 1095 ۔ چیف منسٹر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کمیٹی ممبرس مہندرا رنکا چیرمین، ایم ایچ آر سی سشیل سنچیٹی خازن، سریندر لونیا، سشیل کپاڈیہ وائس چیرمین نے کہا کہ مہاویر، جسے سماج کے ضرورتمند لوگوں کیلئے طبی خدمات علاج و معالجہ کیلئے1978ء میں شروع کیا گیا تھا، دی گئی لیز اراضی پر تھا، اسے 3.5 ایکر زمین سالانہ 12 روپئے کرایہ پر 30 سال کی مدت کیلئے لیز پر دی گئی تھی جس کی بعد میں تجدید کی گئی۔ تاہم اب چیف منسٹر نے اسے دائمی مالکانہ حقوق کی اراضی بنادیا جس پر کمیٹی اور جین کمیٹی نے بھی اس جذبہ خیرسگالی کیلئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ کہتے ہوئے کہ مہاویر ہاسپٹل کی جانب سے غریب اور متوسط طبقہ کے افراد کیلئے قابل گنجائش خرچ پر طبی خدمات دی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب گیسٹرونٹرولوجی ، آنکولوجی، کارڈیاک، گائناکالوجی اور پیڈیاٹرکس پر توجہ دے رہے ہیں۔ ڈائیلاسیس پر انہوں نے کہا کہ ان کے یہاں 63 ڈائیلاسیس مشینیں ہیں اور ایک ماہ میں 3750 پروسیجرس کئے جاتے ہیں جو انتہائی کم خرچ 300 روپئے میں کئے جاتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائیلاسیس سنٹر قائم کرکے گردے کے مرض میں مبتلا مریضوں کیلئے بہتر علاج کی فراہمی اور یورولوجی، نیفرولوجی ڈپارٹمنٹ قائم کرکے ضرورتمند مریضوں کیلئے اس کی طبی خدمات کو ملک بھر اور عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ٹی بی ریسرچ کیلئے ایک علحدہ ٹی بی کلینک اور ایک ریسرچ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ منیجنگ ٹرسٹی سنیل پہاڑے نے اس ہاسپٹل کی خدمات اور اس کے نیشنل ٹیوبرکولاسس کنٹرول پروگرام کے بارے میں بتایا۔ اس موقع پر جین سیوا سنگھ کے صدر یوگیش سنگھی اور موتی لال جی بھلگت بھی موجود تھے۔