ہمارا ہندوتوا ووٹ کیلئے نہیں، یہ ہماری زندگی ہے، سنجے راوت کی میڈیا سے بات چیت
ممبئی : شیو سینا (ٹھاکرے ) کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے مہاراشٹر کابینہ کی توسیع میں ہو رہی دیری پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نتیجہ کو 20 دن ہو چکے ہیں۔ یہ لوگ ای وی ایم کے ذریعہ بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھی حکومت نہیں بنا پائے ہیں۔ کابینہ میں توسیع نہیں کی گئی۔ ریاست میں حکومت نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز قتل و غارت گری، ڈکیتی کی وارداتیں جاری ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ ناگپور میں وزیر اعلیٰ کا جلوس نکالا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ بادشاہ تقریبوں میں مگن ہے ۔ ریاست میں کوئی وزیر داخلہ نہیں ، وزیر صحت نہیں ، وزیر تعلیم نہیں … یہ کیسی ریاست ہے ؟ تینوں جماعتوں میں ہم آہنگی نہیں ہے ۔ اسی لیے ہم اس ریاست کے بارے میں فکر مند ہیں۔ آج صبح میڈیا سے بات کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ چاہے مہایوتی کسی کو وزیر بنائے ، صرف تین پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف فائلیں نکالنے کر لانے والی ہیں۔ ایسی فائلیں اب باہر آنے لگی ہیں۔ ان تینوں کے آپسی مسائل کی وجہ سے مہاراشٹر کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ قانون ساز اسمبلی میں ہمارے قائد حزب اختلاف امباداس دانوے یقیناً اہم مسائل پر بات کریں گے ۔ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے بھی ناگپور کنونشن میں جا رہے ہیں۔ اس لیے ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سیشن کے دوران کوئی دھماکہ ہو سکتا ہے ۔ دادر میں ہنومان مندر کے معاملے پر شیو سینا اور بی جے پی میں تنازعہ شروع ہو گیا ہے ۔ کل، ادھو ٹھاکرے نے ایک پریس کانفرنس میں اس مسئلے کو آگے لایا۔ جس کے بعد بی جے پی کی جانب سے ان پر تنقید کی جارہی ہے ۔ اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے سنجے راوت نے آج کہا، کیا بی جے پی کے سر میں سڑے ہوئے پیاز اور آلو ہیں؟ انھوں نے سوال کیا کہ ،کیا ہندوتوا کی اجارادارہ بی جے پی کے نام پر ہے ؟ شیو سینا نے ہندوتوا کو بی جے پی میں متعارف کروایا۔ ہندووں کے دلوں پر راج کرنے والے بالا صاحب ٹھاکرے نے بی جے پی کی انگلی پکڑ کر انہیں ہندوتوا کی راہ پر گامزن کیا۔ اب ان لوگوں نے ( بی جے پی والوں نے ) اس سڑک پر بھی گڑھے کھود لیے ہیں۔ ہمارا ہندوتو ووٹ کے لیے نہیں ہے ، یہ ہماری زندگی ہے ۔ آج شام دادر کے ہنومان مندر میں آدتیہ ٹھاکرے کی موجودگی میں مہا آرتی کا انعقاد کیا جائے گا۔ سنجے راوت نے یہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی کا ہندوتوا بیدار ہے تو انہیں بھی اس آرتی کے لیے وہاں آنا چاہیے ۔