مہایوتی کی ممبئی میں واضح برتری ، بی ایم سی میں اکثریت قریب

,

   

ممبئی، 16جنوری (یو این آئی) مہاراشٹرا کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی رجحانات کے مطابق ممبئی میونسپل کارپوریشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی اتحادی شیو سینا (شندے ) پر مشتمل مہایوتی اتحاد مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہا ہے اور 227 رکنی بی ایم سی میں اکثریت کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ۔ گنتی کے دوران سامنے آئے رجحانات کے مطابق ممبئی کے 227 میں سے 210 وارڈز کے رجحانات دستیاب ہیں، جن میں بی جے پی 92 وارڈز میں سبقت حاصل کیے ہوئے ہے ، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا 26 وارڈز میں آگے ہے ۔ ان اعداد و شمار کی بنیاد پر مہایوتی اتحاد کے 114 نشستوں کی اکثریتی حد عبور کرنے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب، ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) 60 وارڈز میں آگے ہے ، جبکہ مہاراشٹرا نونرمان سینا 9 نشستوں پر سبقت رکھتی ہے ۔ دو دہائیوں بعد ایک ساتھ آنے والے ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کے اتحاد کو ممبئی میں سخت مقابلے کا سامنا ہے ۔ ریاست کے دیگر حصوں میں بھی حکمراں اتحاد کی برتری سامنے آئی ہے ۔ تھانے میں شندے گروپ کی شیو سینا 131 میں سے 18 وارڈز میں آگے ہے ، جبکہ بی جے پی 10 وارڈز میں سبقت رکھتی ہے ۔ پونے میں بی جے پی 43 نشستوں پر آگے ہے ، جہاں کانگریس 7، این سی پی 5 اور این سی پی (شرد پوار دھڑا) 3 نشستوں پر محدود ہے ۔ پمپر ی۔چنچوڑ میں بی جے پی 70 نشستوں میں برتری کے ساتھ آگے ہے ، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی 40 نشستوں پر آگے ہے ۔ اس کے برعکس لاتور میونسپل کارپوریشن میں کانگریس نے ونچت بہوجن اگھاڑی کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کر لیا ہے ۔ ممبئی میں ووٹروں کی شرکت کا تناسب52.94 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو 2017 کے انتخابات میں درج 55.53 فیصد سے کم ہے ۔ 74,400 کروڑ روپے سے زائد سالانہ بجٹ رکھنے والی بی ایم سی میں یہ انتخابات چار سال کی تاخیر کے بعد منعقد ہوئے ، جس کے باعث ان نتائج کو ریاستی سیاست کیلئے نہایت اہم مانا جا رہا ہے ۔