بی جے پی حکومت نے سینکڑوں نعشیں چھپا رکھی ہیں، بھگدڑ کے واقعہ کی کوئی تحقیقات نہیں ہورہی
کولکاتا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو دعویٰ کیا کہ بھگدڑ کے حالیہ واقعات کے پیش نظر مہا کمبھ ‘مرتیو کمبھ’ میں تبدیل ہو گیا ہے اور الزام لگایا کہ میگا اجتماع میں ہلاکتوں کی اصل تعداد کو دبا دیا گیا ہے ۔گزشتہ ماہ اتر پردیش کے پریاگ راج میں بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہوگئے تھے جبکہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھیڑ بھاڑ میں 18 افراد کی جانیں چلی گئی ۔ممتا بنرجی نے آج بنگال اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہا کمبھ مرتیو کمبھ میں بدل گیا ہے ۔ انہوں نے (بی جے پی حکومت) نے تعداد کو کم کرنے کیلئے سینکڑوں نعشیں چھپا رکھی ہیں۔بنرجی نے مہا کمبھ میں بھگدڑ کو دل دہلا دینے والا قرار دیا، اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے بڑے مذہبی اجتماعات میں بہتر منصوبہ بندی اور انتظام کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے واقعات میں جانوں کا المناک نقصان محتاط منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے ، خاص طور پر جب بات شہریوں کی حفاظت کی ہو۔وزیر اعلی نے اتر پردیش حکومت پر بھی تنقید کی کہ وہ مناسب انتظامات کیے بغیرمہا کمبھ کے ارد گرد ہنگامہ کھڑا کر رہی ہے ۔مہا کمبھ (بھگدر) کے واقعے میں بہت سے لوگ مارے گئے ، لیکن وہ مرنے والوں کی صحیح تعداد جاری نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس تقریب کے بارے میں اس طرح کا ہپ پیدا کیا، اور اس کے باوجود پنڈال میں کوئی مناسب انتظامات نہیں تھے ۔بنرجی نے بھگدڑ میں مرنے والے بنگال کے باشندوں کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی نعشیں مناسب دستاویزات کے بغیر واپس بھیج دی گئی ہیں، اس کی وجہ سے اہل خانہ کو معاوضہ حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ ”ہم نے پوسٹ مارٹم کیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کے اہل خانہ کو موت کا سرٹیفکیٹ مل جائیں۔وزیر اعلیٰ نے مہا کمبھ میں وی آئی پی کلچر پر بھی تنقید کی۔ممتا بنرجی نے نوٹ کیاکہ جب کہ میں نے عام لوگوں کو تکلیف سے بچنے کیلئے ہولی ڈپ سے گریز کیا، اس تقریب میں وی آئی پیز کیلئے خصوصی سلوک دیکھا گیا۔ممتا بنرجی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بھگدڑ کے واقعے کے باوجوداتر پردیش حکومت کی طرف سے کوئی تحقیقاتی کمیٹی قائم نہیں کی گئی ہے ، جہاں اس طرح کے سانحات کے بعد تحقیقاتی پینل تشکیل دیے جاتے ہیں۔انہوں نے بی جے پی کے ممبران پر بھی طنز کیا، اور یہ دعویٰ کیا،بی جے پی کے ممبر اسمبلی میرا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں اور اسی لیے جب بھی میں بولتی ہوں ایوان کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ان کے مسلم لیگ سے تعلق کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ، بنرجی نے اس طرح کے ریمارکس کی سخت مذمت کی۔مجھ پر مسلم لیگ کا رکن ہونے کا الزام ہے ۔ میں ان بے بنیاد الزامات کی پرزور مذمت کرتی ہوں۔ممتا بنرجی نے بی جے پی کے ممبران اسمبلی کو ان کے خلاف ’’بے بنیاد تبصرہ‘‘کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کو اس طرح کے دعوؤں کی شکایت کرنے کیلئے لکھیں گی۔