مہر کے بغیر گوشت فروخت کرنے والوں کے خلاف جی ایچ ایم سی کی کارروائی

   

حیدرآباد :۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) کی جانب سے صرف مہر کئے ہوئے گوشت ( میٹ ) کا استعمال کرنے کے سلسلہ میں بیداری پروگرامس منعقد کرنے اور بغیر مہر لگے گوشت کو فروخت کرنے والی شاپس پر دھاوے کرنے کے باوجود شہر میں بغیر مہر کیے ہوئے گوشت کا استعمال کمی کے بغیر جاری ہے ۔ اپریل 2020 سے 4 جنوری 2021 تک جی ایچ ایم سی کے ویٹرنری سیکشن کی جانب سے اس مدت کے دوران 683 اشخاص کے خلاف کیسیس درج کئے گئے اور ان پر تقریبا 18 لاکھ روپئے جرمانہ عائد کیا گیا ۔ اس کے علاوہ 1,222.5 کلو گرام بغیر مہر کے میٹ اور 1,399 کلو گرام بیف کو ضبط کیا گیا ۔ ہوٹلس ، ریسٹورنٹس ، فنکشن ہالس اور دیگر اداروں کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ جی ایچ ایم سی مسالخ سے صرف مہر لگے ہوئے گوشت ہی کو حاصل کریں ۔ جی ایچ ایم سی نے شہریوں پر بھی اس بات کے لیے زور دیا کہ وہ کالونیز اور دوسرے مقامات پر ریٹیل شاپس پر صرف مہر لگے گوشت ہی کو خریدیں اور اس کے لیے اصرار کریں ۔ تاہم میونسپل کارپوریشن کی جانب سے کئے گئے دھاؤں کے دوران دیکھا گیا کہ کئی ادارے بغیر مہر لگا میٹ حاصل کررہے ہیں ۔ حیرت انگیز طور پر کئی ہوٹلس میں بغیر مہر لگے میٹ کا استعمال کیا جارہا تھا چنانچہ ان کے خلاف کارروائی کی گئی ۔ چند پر مقدمات بھی عائد کئے گئے ۔ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے شہر میں مختلف مقامات پر دھاوے کئے جارہے ہیں اور بغیر مہر لگے میٹ فراہم کرنے والے مسالخ کو ضبط کیا جارہا ہے ۔ مسالخ رنمست پورہ ، عنبر پیٹ ، ضیا گوڑہ اور نیو بھوئی گورہ میں ہیں ۔ چنگی چرلہ میں ایک رینڈرنگ پلانٹ ہے ۔ جی ایچ ایم سی نے تقریبا 89 کلو گرام پلاسٹک ( 50 مائیکرونس سے کم کے پالی تھین بیاگس ) بھی ضبط کئے ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ’ ہم لوگوں سے گوشت لے جانے کے لیے ٹفن باکسیس کا استعمال کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں لیکن کئی لوگ پالی تھین کورس کا ہی استعمال کررہے ہیں ‘ ۔۔