واشنگٹن : ہفتہ کے روز مہسا امینی کی پہلی برسی ہے، وہ 22 سالہ ایرانی کرد خاتون جنہیں ایران کی اخلاقی پولیس نے تہران میں ڈریس کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی کے الزام میں گزشتہ سال حراست میں لیا تھا اور دورانِ حراست وہ ہلاک ہو گئی تھیں۔مہسا امینی کے خاندان نے الزام لگایا تھا کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کی برسی کے موقع پر صدر بائیڈن نے ایک بیان جاری کیا ہیجس میں مہسا امینی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے دنیا میں ہر جگہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا ہے، مہسا ’زینا‘ امینی کی موت کی برسی کے موقع پر، جِل اور میں دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ مل کر انہیں یاد کرتے ہیں — اور ہر اس بہادر ایرانی شہری کو ، جو پرامن طریقے سے جمہوریت کا مطالبہ کرنے پر ایرانی حکومت کے ہاتھوں مارا گیا، زخمی یا قید ہوا ہے۔ پیغام میں مزید کہا گیا ہے، جیسا کہ ہم نے پچھلے سال دیکھا ہے، مہسا کی کہانی ان کی ظالمانہ موت کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے ایک تاریخی تحریک ’ عورت، زندگی، آزادی‘ کیلئے تحریک کو جنم دیا جس نے ایران کو اور دنیا بھر کیان لوگوں کو متاثر کیا جو صنفی مساوات اور اپنے انسانی حقوق کے احترام کی ان تھک وکالت کر رہے ہیں۔