مہیشورم اجتماعی عصمت ریزی کیس کے ملزمین کو 20 سال کی سزا

   

رنگاریڈی کی عدالت کا فیصلہ ، جرم پر عبرت ناک انجام

حیدرآباد : ضلع رنگاریڈی کی ایک عدالت نے مہیشورم اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ کے ملزمین کو 20 سال کی سزا سنائی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج جسٹس ماروتی دیوی نے آج یہ اہم فیصلہ سنایا۔ سال 2019ء اگست میں یہ سنسنی خیز واقعہ منظر عام پر آیا تھا جہاں چار ملزمین نے اپنی ساتھی مزدور خاتون کا تعاقب کرتے ہوئے سنسان مقام پر منتقل کیا اور اس کی ایک کے بعد دیگر اجتماعی عصمت ریزی کی۔ عدالت نے 25 سالہ راہول حاجی، 23 سالہ منوج سمراٹ، 20 سالہ درگاہ سمراٹ اور 20 سالہ دیاندھی حاجی کو فی کس 20 سال قید اور 2 ہزار روپئے جرمانہ عائد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ 16 اگست 2019ء کی رات تقریباً 7:30 بجے اڈیشہ سے تعلق رکھنے والے خاتون جو اینٹ کی بھٹی میں کام کرتی تھی، ان ملزمین نے نظر رکھی جیسے ہی یہ خاتون ضرورت سے فارغ ہونے کیلئے روانہ ہوئی ۔ ملزمین نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اسے پکڑ لیا اور سنسان مقام پر منتقل کرنے کے بعد اس کی اجتماعی عصمت ریزی کی۔ مہیشورم پولیس نے 22 اگست کو ان ملزمین کو گرفتار کیا تھا اور 4 نومبر 2019ء کو ان بدمعاشوں کے خلاف کمشنر پولیس رچہ کنڈہ نے پی ڈی ایکٹ نافذ کیا تھا۔ اس کیس میں تحقیقات کرتے ہوئے مہیشورم پولیس نے چارج شیٹ داخل کردی اور عدالت نے فیصلہ سنایا۔ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ مہیش بھگوت نے عدالت کے فیصلہ پر مسرت کا اظہار کیا اور پولیس کے اقدامات پر انہیں مبارکباد پیش کی۔