چیف منسٹر نے پرانے شہر کا تذکرہ تک نہیں کیا، بجٹ میں مختص 500 کروڑ کہاں گئے
حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مہیشورم اسمبلی حلقہ تک میٹرو ٹرین کو توسیع دینے کا اعلان کیا لیکن طویل عرصہ سے میٹرو ٹرین کا انتظار کرنے والے پرانے شہر کے باشندوں کو کوئی خوش خبری نہیں سنائی۔ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین ایک دیرینہ خواب بن چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے اسمبلی اور اس کے باہر بارہا اعلان کیا گیا کہ پرانے شہر میں میٹرو ٹرین پراجیکٹ پر بہرصورت عمل کیا جائے گا۔ پرانے شہر کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعت بھی بظاہر میٹرو ٹرین چلانے کا مطالبہ کررہی ہے لیکن اس سلسلہ میں عملی پیشرفت آج تک نہیں ہوئی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے مہیشورم اسمبلی حلقہ میں ہریتاہارم پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے تیقن دیا کہ کہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ تک چلائی جانے والی میٹرو ٹرین کو مہیشورم کے کندوکور تک توسیع دی جائے گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ بہت جلد مہیشورم کو میٹرو ٹرین سے مربوط کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے گزشتہ سال 31 کیلومیٹر طویل حیدرآباد میٹرو ایرپورٹ ایکسپریس کا سنگ بنیاد رکھا جس کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈسٹرکٹ کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ سے مربوط کیا جائے گا۔ گزشتہ سال پرانے شہر میں میٹرو پراجیکٹ کے لیے بجٹ کا اعلان کیا گیا لیکن پراجیکٹ کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ پراجیکٹ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کے عدم تعاون کے نتیجہ میں پراجیکٹ کے ابتدائی کام شروع نہیں کئے جاسکے۔ بجٹ 2023-24ء میں پرانے شہر کے میٹرو پراجیکٹ کے لیے 500 کروڑ مختص کئے گئے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رقم صرف پرانے شہر کے عوام کو خوش کرنے کے لیے بجٹ میں دکھائی گئی ہے۔ نئے شہر کے علاقوں میں میٹرو ٹرین کے توسیعی کام جنگی خطوط پر جاری ہیں لیکن پرانے شہر میں پراجیکٹ کے لیے آج تک سروے کا کام بھی مکمل نہیں ہوا۔ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں پرانے شہر میں میٹرو پراجیکٹ اہم انتخابی موضوع بن سکتا ہے۔ر