نائجریائی باشندے ملوث ہونے کا شبہ ، کھاتہ داروں کی تلاش
حیدرآباد /26 جنوری ( سیاست نیوز ) حیدرآباد میں واقع مہیش بنک کے کروڑہا روپئے غبن کے معاملہ میں پولیس نے پیشرفت اختیار کرلی ہے ۔ جن بنک کھاتوں کے ذریعہ رقم کی ہیراپھیری کرتے ہوئے بنک کو جبکہ لوٹا گیا ان کھاتوں کی شناخت کرلی گئی ہے ۔ سائبر دھوکہ بازوں نے بنک کی رقم کو لوٹنے کیلئے ایک طویل منصوبہ پر عمل کیا ۔ سائبر کرائم پولیس کو اس معاملہ میں نائجرایائی باشندوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ بنک کو رقم کو لوٹنے کیلئے 2 ماہ قبل ہی منصوبہ پر عمل کیا گیا اور جاریہ ماہ شاہنواز بیگم کے نام سے اور گذشتہ ماہ کی 23 تاریخ کو ناگول میں شانیویکا انٹرپرائزس کے نام سے کھاتے کھولے گئے ۔ حسینی علم میں واقع ہندوستان ٹریڈرس کے نام سے ادارے چلانے والے ونود کمار کا سال 2020 جون سے اس بنک میں کرنٹ اکاونٹ پایا جاتا ہے ۔ ان تینوں بنک کھاتوں کو استعمال کرتے ہوئے سائبر دھوکہ بازوں نے 12.4 کروڑ روپئے کا غبن کرلیا ۔ شاہنواز بیگم نے کھاتہ تیار کرنے کے وقت گولکنڈہ کا پتہ دیا تھا ۔ سائبر کرائم پولیس نے اس خاتون کی شناخت ممبئی سے بتائی ۔ اس خاتون کو منصوبہ طریقہ سے شہر منتقل کیا گیا اور ناگول میں شاینویکا انٹرپرائزس کے نام سے کھاتہ کھلوانا بھی اس سازش کا حصہ تصور کیا جارہا ہے ۔ ان دو کھاتوں اور ونود کمار کی مدد سے رقم کو نکالا گیا ۔ پولیس ان تینوں کی تلاش میں جٹ گئی ہے ۔ سائبر کرائم پولیس نے بتایا کہ سرور ہیکنگ کیلئے سائبر دھوکہ بازوں نے فریکسی سرور کا استعمال کیا اور اس کے آئی پی اڈریس سے پتہ چلا ہے کہ ساری کارستانی امریکی ادارے کی جانب سے جنریٹ کی گئی ۔ پولیس نے بتایا کہ تلنگانہ اسٹیٹ کوآپریٹیو اپیکس بنک دھوکہ دہی میں بھی اس فارمولہ کا استعمال کیا گیا اور پولیس نے اس عمل میں نائجریائی باشندوں کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا ہے ۔ ع