میئرنظام آبادکے انتخاب پرمعمہ ‘ کانگریس ۔ مجلس اتحاد ممکن

   

کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت نہیں‘خاتون کارپوریٹرس پنچاریڈی‘اومارانی‘ پوجیتا اورکے سریکھا میئرکی دوڑ میں شامل
نظام آباد:15؍فروری(محمدجاویدعلی کی رپورٹ) میونسپل کارپوریشن میں میئر کے عہدہ پر کون فائز ہوگا اس سوال نے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث کارپوریشن ہنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے اور شہر کی سیاست ایک نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے باوجود بی جے پی میجک فیگر نہ ہونے کی وجہ سے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کر چکی ہے جبکہ کانگریس پارٹی جبکہ مجلس اتحاد المسلمین کے تعاون سے میئر کی کرسی حاصل کرنے کیلئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس کی مجوزہ میئر امیدوار کٹی پلی شمنتا کی 19ویں ڈویژن سے شکست کے بعد پارٹی کے اندر نئے ناموں پر غور شروع ہو گیا ہے۔ میئر کی دوڑ میں کامیاب خاتون کارپوریٹرس پنچاریڈی للتہ (ڈویژن 21)، اُما رانی (ڈویژن 49)، پوجیتا (ڈویژن 41)، اروندھتی (ڈویژن 12) اور کیتاوت سریکھا (ڈویژن 9) شامل ہیں۔ ان میں چار امیدوار بی سی طبقات سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ سریکھا درج فہرست قبیلہ (ایس ٹی) سے وابستہ ہیں۔ پارٹی قیادت سماجی توازن اور نمائندگی کے پہلو کو بھی پیش نظر رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث فیصلہ مزید حساس صورت اختیار کر گیا ہے۔کارپوریشن کی 60 نشستوں میں بی جے پی کو 28، کانگریس کو 17، ایم آئی ایم کو 14 اور بی ار ایس کو 1نشست حاصل ہوئی ہے۔ سابقہ انتخابات کی طرح اس بار بھی ہنگ صورتحال برقرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کی منتخب رکن وجیا لکشمی نے کانگریس اتحاد کی حمایت اختیار کر لی ہے۔ ارکان اسمبلی و پارلیمان کے ایکس آفیشیو ووٹ شامل ہونے کے بعد کانگریس اتحاد کی عددی برتری میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بی جے پی کے پاس ایکس آفیشیو ووٹوں سمیت تقریباً 31 ووٹ بنتے ہیں جبکہ کانگریس اتحاد 33 تا 34 ووٹ حاصل کرتے ہوئے بی جے پی سے آگے نکل چکی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہی بی جے پی نے اپوزیشن میں رہنے کا اعلان کر دیا لیکن مئیر کے امیدوار کو لے کر ہی تجسس جاری ہے۔ریاست میں کانگریس کے اقتدار میں ہونے کے باعث میئر کا عہدہ کانگریس کے حصے میں جانے کے امکانات ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم آئی ایم کی حمایت کی صورت میںڈ پٹی میئر کا عہدہ ایم آئی ایم کو دیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے شکیل احمد فاضل کی اہلیہ سلمہ تحسین جو پہلی مرتبہ منتخب ہوئی تھیں کا نام متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ میئر کا عہد ہ بھی اوما رانی کا نام طئے کرنے کی اطلاع ہے۔ لیکن اس بارے میں کانگریس پارٹی کی جانب سے ابھی تک کوئی اعلان نہیں کیا گیا ۔اوما رانی پردیش کانگریس کے صدر مہیش کمار کے قریبی رفقا میں سے ہے اس کے علاوہ پنچ ریڈی للتہ منورکا پو طبقے سے تعلق رکھتی ہے پارٹی کے اندر اس بات کو لے کر بھی غور کیا جا رہا ہے کیونکہ شہر میں اکثریت مسلمانوں کے بعد منور کاپو کی ہے جس کی وجہ سے اس پر بھی غور کیا جا رہا ہے حالانکہ میئر کا عہدہ جنرل خاتون کے لیے مختص کیا گیا تھا لیکن 19 ڈویژن سے مقابلہ کرنے والی شمنتا ریڈی کی شکست کے بعد کانگریس پارٹی کے لیے میئر کا انتخاب سنگین مسئلہ بن چکا ہے لیکن پارٹی کے اندر ہی اس کے حل کے لیے پردیش کانگریس کے صدر مسٹر مہیش کمار گوڑ ضلع کے الیکشن انچارج وزیر سیول سپلائی اتم کمار ریڈی اور اعلی قائدین کے درمیان بات چیت جاری ہے اور متفقہ طور پر میئر کا نام اعلان کرنے کے امکانات ہیں۔