میئر اور ڈپٹی میئر الیکشن کیلئے ضابطہ اخلاق نافذ

   

کارپوریٹرس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں پر کارروائی کا انتباہ‘ ٹی آر ایس کی حکمت عملی کو قطعیت
حیدرآباد۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر اور ڈپٹی میئر انتخابات کے سلسلہ میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ کردیا گیا ۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ضابطہ اخلاق میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن تک برقرار رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے 22جنوری کو نوٹیفکیشن جاری کیا اور اسی دن سے ضابطہ اخلاق کا آغاز ہوچکا ہے۔ 11 فروری کو دونوں عہدوں کیلئے نومنتخبہ ارکان پر مشتمل کونسل میں سیلکشن ہوگا۔ کلکٹر حیدرآباد شویتا موہنتی کو میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن کیلئے خصوصی اجلاس طلب کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ضابطہ اخلاق کے تحت پارٹی نمائندوں کو مہم یا کسی اور طریقہ سے پروگرام کرنے کی اجازت نہیں رہے گی۔ ضابطہ اخلاق کے تحت کارپوریٹرس اور دیگر ووٹرس کو کوئی لالچ یا ان پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے خلاف الیکشن کمیشن نے کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ ارکان کو دھمکانے یا رشوت کی کوششوں کو سختی سے نمٹا جائے گا۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے الیکشن کے سلسلہ میں ٹی آر ایس نے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ عنقریب فیصلہ کریں گے۔ میئر کے عہدہ کیلئے ریڈی طبقہ کی کارپوریٹرس نے دعویداری پیش کردی ہے۔ میئر کا عہدہ خاتون کیلئے محفوظ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ میئر کے عہدہ پر اعلیٰ طبقات کو نمائندگی دی جائیگی جبکہ اس مرتبہ دو ڈپٹی میئر مقرر کرنے کی تجویز ہے جس کیلئے میونسپل ایکٹ میں مناسب ترمیم کی جاسکتی ہے۔ کابینی اجلاس میں ترمیمی قانون کو منظور دی جائے گی جس کے بعد الیکشن میں دو ڈپٹی میئر منتخب کئے جاسکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی میئر کی تعداد پر قطعی فیصلہ باقی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹی آر ایس اپنی طاقت پر میئر و ڈپٹی میئر کے عہدوں پر اپنے امیدواروں کو بہ آسانی کامیاب بناسکتی ہے۔ اس کیلئے حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔ ذرائع نے ڈپٹی میئر کا عہدہ حلیف جماعت مجلس کو دینے کی اطلاعات کو مسترد کردیا۔ ٹی آر ایس 56 کارپوریٹرس اور بہ اعتبار عہدہ 31 ارکان کی تائید سے دونوں عہدوں پر با آسانی قبضہ کرسکتی ہے۔