میادہ مصر کی ماہی گیری جہاز کی پہلی ڈیوٹی عہدیدار

,

   


23 سالہ خاتون نے 25سالہ خاندانی روایت کو برقرار رکھنے میں کافی محنت کی
قاہرہ ۔کئی برسوں کی جدوجہد اور استقامت کے بعد میادہ رمضان ماہی گیری کے جہازوں پر ڈیوٹی آفیسر کی حیثیت سے کام کرنے والی پہلی مصری عورت بننے کا خواب پورا کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔ اس طرح وہ ماہی گیری کے شعبے میں اپنے خاندانی پیشے کو جاری رکھ سکیں گی۔23 سالہ میادہ رمضان نے فیکلٹی آف فشریز ٹیکنالوجی اور آبی زراعت میرین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے اکتوبر 2020 میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد وہ ماہی گیری کے جہازوں پر ڈیوٹی آفیسر کے لیے ہونے والے تربیتی امتحانات میں شامل ہوئیں ۔ اس شعبے میں لائسنس حاصل کرنے والی وہ پہلی مصری خاتون تھیں۔میادہ شمالی مصر کے سکندریہ گورنریٹ میں واقع میمورا کے علاقے میں رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ملازمت میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا خاندان 25 سال سے زائد کے عرصے سے اس میں کام کر رہا ہے۔ میادہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے پر بہت خوش ہیں، جس کا اظہار انہوں نے اپنے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سند کو حاصل کرنے والی پہلی مصری کی حیثیت سے اپنی خوشی کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ میادہ نے 1995 میں سمندری پاسپورٹ حاصل کیا جبکہ اسی سال ہی ماہی گیری سے وابستہ کارکنوں کی تربیت، سرٹیفکیٹ وغیرہ بھی حاصل کیے۔ مصر میں جنرل اتھارٹی برائے مچھلی وسائل کے مطابق مصر آبی ذخائر اور مچھلیوں کی پیداوار کے لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 2012 میں جاری ہونے والی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق بحیرہ روم اور بحر احمر میں تقریباً نو ہزاور 994 موٹر کشتیاں چلتی ہیں جن میں سے تین ہزار 46 بحیرہ روم میں اور ایک ہزار 863 بحر احمر میں چلتی ہیں۔