یانگون : میانمار کی ملٹری جنتا نے رہنما آنگ سان سوچی پر سال 2020 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کردیا۔سرکاری میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان کی پارٹی کی بھاری اکثریت سے فتح کے بعد یہ الزامات تازہ ترین ہیں۔رپورٹ کے مطابق فروری سے ملک بھر میں احتجاج اور مخالفین کے خلاف فوج کے جان لیوا کریک ڈاؤن کے بعد ہنگامے برپا ہیں۔ملک میں بغاوت کے بعد زیر حراست 76 سالہ آنگ سان سوچی پر غیر قانونی واکی ٹاکیز برآمد ہونے، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے ہیں اور اگر یہ الزامات ثابت ہوگئے تو انہیں کئی سال تک جیل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
