انقرہ: میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد ، نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی این ایل ڈی پارٹی کو تحلیل کیے جانے کے آثار ہیں۔ نیوز پورٹل “میانمار ناؤ” کی خبر کے مطابق ، فوج کے ذریعہ قائم کردہ الیکشن کمیشن نے اس عمل کا جواز انتخابی دھاندلی بتایا ہے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اس وقت کی ڈی فیکٹو ہیڈ آف گورنمنٹ سو چی نے 2020 میں پارلیمانی انتخابات میں واضح طور پر کامیابی حاصل کی تھی۔ فروری میں فوج نے بغاوت کی اور اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک کی سول قیادت کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد سے جاری عوامی احتجاج میں کئی سو مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں۔
