منتخبہ حکومت کیخلاف فوجی بغاوت کے خلاف احتجاجیوں کا انوکھا اقدام
یانگون : ضلع انسین میں منتخبہ حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے مخالف احتجاجیوں نے آج ایک انوکھا احتجاج کیا ۔ کئی انڈے جن پر تین انگلیوں سے سلام کرنے کی تصویر پینٹ کی گئی تھی ، اپنی اپنی موٹر سیکلوں پر احتجاجی مظاہرین نے شرکت کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ جمہوری طور پر منتخبہ حکومت کا تختہ اُلٹ دینے اور اُسے اقتدار سے علحدہ کردینے والی باغی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کردیا جائے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردیا جائے جب کہ فوج کی فائرنگ سے بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کی تعداد 557 ہوگئی ۔ ’’خودمختار امداد اسوسی ایشن برائے سیاسی قیدیوں ‘‘ نے مطالبہ کیا کہ تقریباً 2750 سے زیادہ سیاسی قیدیوں کو جن میں سے چند کو سزائے موت بھی سنائی گئی ہے فوری رہا کردیا جائے ۔ اتوار کے دن مبینہ ’’ ایسٹر انڈے احتجاج ‘‘ کے بعد ’’ پھول ہڑتال ‘‘ بھی کی گئی ۔ یہ مسلح افواج کے خلاف عام مقامات پر ایک خاموش احتجاج تھا جس کے دوران پوری سڑکیں سنسان نظر آرہی تھی ۔ فوج نے تمام شہریوں میں خوف پیدا کردیا تھا ۔ یانگون کے شہریوں نے رات تمام فوجیوں اور پولیس کا ایک ویڈیو فلم گشت کرتا رہا جس میں ان کو احتجاجیوں پر دھاوا کرتے اور اُن پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ۔ بعض احتجاجی وقفہ وقفہ سے بدگوئی پر مبنی نعرے بھی لگارہے تھے جب کہ ہفتہ کے دن پولیس فائرنگ سے کئی احتجاجی مظاہرین وسطی میانمار کے علاقہ مونیوا اور دیگر مقامات پر ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ مسلح افواج کی عام شہریوں پر زیادتیوں کا ویڈیو فلم تھا جس کی وجہ سے میانمار کے عوام اپنی قابل رحم صورتحال بیرونی دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔ کئی ہفتوں سے رات کے وقت انٹرنیٹ کا ربط منقطع کردیا جارہا ہے ۔ جمعہ کے دن سے فوج نے تمام مواصلاتی رابطے منقطع کردیئے ہیں اور رات کے وقت ان کا استعمال ممنوعہ قرار دیا گیا ہے ۔ موبائیل نیٹ ورکس اور تمام وائرلیس رابطوں پر بھی امتناع عائد کردیا گیا ہے اور اُن تک رابطہ مشکل بنادیا گیا ہے ۔ ملک گیر سطح پر عوام کی مواصلاتی روابط ناممکن بن گئے ہیں ۔ اتوار کے دن تمام مواصلاتی رابطے میانمار کے عوام کیلئے ناقابل رسائی بنے رہے ۔
