میانمار میں فوجی کارروائی پر چین خاموش تماشائی

   

اقوام متحدہ : سلامتی کونسل میانمار میں فوجی کارروائی روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے تاہم چین فوجی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی مخالفت کر رہا ہے۔میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی کرسٹین شرینر برگنر نے خبردار کیا ہے کہ اگر سلامتی کونسل نے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے نہ کیا تو میانمار خانہ جنگی اور خونریزی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔چہارشنبہ کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری کوئی ایکشن لینے کی بجائے میانمار کی فوجی حکومت سے بات چیت کے انتظار میں رہی تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ سلامتی کونسل میں چین نے اب تک اس مسئلے پر کڑے تادیبی اقدامات لینے کی بجائے احتیاط سے کام لینے کا موقف اپنایا ہوا ہے۔چین کے مطابق یہ موقف اْس کی دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی روایتی پالیسی کا حصہ ہے۔چین کے میانمار میں کاروباری مفادات ہیں اور چین کی کمپنیوں نے وہاں کے مختلف شعبوں میں خاصی سرمایاکاری کر رکھی ہے۔بیجنگ حکومت تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک لمبی پائپ لائن بھی بچھا رہی ہے، جو چین سے میانمار کے راستے بحرِ ہند تک جائے گی۔ یہ منصوبہ چین کی ‘ون بیلٹ، ون روڈ‘ پالیسی میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ میانمار کے اندر چین کو فوجی جنتا کے بڑے اتحادی کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اس کے باعث لوگوں میں بیجنگ حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے۔