میانمار میں موجود لاکھوں روہنگیائوں کو ہنوز نسل کشی کا خطرہ لاحق

   

Ferty9 Clinic

ینگون۔16 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی تحقیقات کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اس وقت میانمار میں جو 6,00,000 روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ انہیں بھی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہے اور وہ لاکھوں روہنگیا جو ملک چھوڑ کر پہلے ہی جاچکے ہیں، ان کی میانمار واپسی ایک ناممکن عمل نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ہیومن رائٹس کونسل کی جانب سے میانمار میں حقائق جاننے کے لیے ایک مشن قائم کیا گیا تھا جس نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے بعد واضح طور پر کہا تھا کہ 2017ء میں روہنگیائوں کے ساتھ جو رویہ ا ختیار کیا گیا تھا وہ نسل کشی کے سوائے اور کچھ نہیں تھا جس کے لیے میانمار فوج کے اعلی سطحی جنرلس کو بھی موردالزام ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اپیل کی گئی تھی جس میں فوج کے سربراہ من آنگ لیانگ بھی شامل ہیں۔ 740000 روہنگیائوں نے اپنے جلتے ہوئے مکانات اور بستیوں کو چھور دیا تھا کیوں کہ وہاں عصمت ریزی اور رونگٹے کھڑے کردینے والی اذیتوں کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے۔ روہنگیائوں نے بنگلہ دیش کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور وہاں کے کاکس بازار میں انتہائی غیر انسانی اور غیر صحتمند ماحول میں زندگی گزاررہے ہیں۔ انہیں میانمار وائس بھیجنے کی بھی کوششں کی گئیں لیکن کوئی روہنگیا میانمار واپس جانے تیار نہیں ہیں۔