یانگون: فروری 2021ء میں بغاوت کے ذریعہ حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد فوج نے اس سال اگست میں عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب اسے ملتوی کر دیا۔ فوجی جنتا نے اس کے ساتھ ملک میں نافذ ایمرجنسی میں بھی توسیع کر دی۔سرکاری ٹیلی ویژن پر پیر کے روز ایک بیان میں فوج نے ملک میں جاری تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کو ملتوی کردینے کا اعلان کیا۔بیان میں کہا گیا ہے،”آزادانہ او رمنصفانہ انتخابات کرانے اور بغیر کسی خوف کے ووٹ ڈالنے کیلئے ضروری حفاظتی انتظامات کی ضرورت ہے اس لیے ہنگامی حالت کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ یہ اعلان جہاں ایک طرف یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ فوج انتخابات کے انعقاد میں کسی طرح کی طاقت کا استعمال نہیں کررہی وہیں دوسری طرف اس بات کا اعتراف بھی ہیکہ وہ اپنی حکمرانی کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والی مخالفت کو دبانے میں ناکام رہی ہے۔پیرکے روز کیے اعلان میں یہ واضح نہیں ہے کہ انتخابات اب کب ہوں گے۔ اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ انتخابات ایمرجنسی کی حالت کے اہداف کی تکمیل کے بعد ہوں گے۔ہنگامی حالت میں یہ چوتھی توسیع ہے۔ ہنگامی حالت کی وجہ سے فوج کو تمام سرکاری کام کاج کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی اجازت مل جاتی ہے۔ ایمرجنسی کی وجہ سے فوج اور گورننگ کونسل کے سربراہ من آنگ ہیلنگ کو قانون سازی، عدالتی اور ایگزیکیٹیو کے تمام اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔میانمار میں ہنگامی حالت کا اعلان یکم فروری 2021ء کو اس وقت کیا گیا تھا جب فوج نے منتخب رہنما آنگ سان سوچی کے ساتھ ان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں اور ان کی پارٹی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے اہم اراکین کو گرفتار کرلیا تھا۔ فوج نے نومبر2020 میں ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی لگائے تھے امریکہ نے انتخابات کو ملتوی اور ایمرجنسی میں توسیع کرنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔
واشنگٹن نے کہا کہ ایمرجنسی میں توسیع سے میانمار مزید تشد د اور عدم استحکام کی دلدل میں چلا جائے گا۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا،”ڈھائی سال قبل جمہوری طور پر منتخب حکومت کو برطرف کرنے کے بعد سے فوجی حکومت نے سینکڑوں فضائی حملے کیے، لاکھوں مکانات کو نذر آتش کردیا اور 16 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔”انہو ں نے مزید کہا کہ حکومت کی وسیع پیمانے پر بربریت اور میانمار کے عوام کی جمہوری امنگوں کی بے توقیری بحران کو طول دے رہی ہے۔اقو ام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ میانمار میں جلد سے جلد جمہوری حکمرانی واپس لوٹ آئے۔ میانمار میں ایک مقامی مانیٹرنگ گرو پ کا کہنا ہے کہ فوجی کریک ڈاون کے نتیجہ میں فروری 2021 کے بعد سے اب تک 3800 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 24000 سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد نیشنل یونٹی گورنمنٹ (این یو جی) کے ترجمان نائے فون لاٹ کا کہنا ہیکہ ایمرجنسی میں توسیع حسب توقع ہے۔