سدی پیٹ میں مستحسن اقدام، فاروق حسین کی مساعی پر ٹی ہریش راؤ سے ستائش
حیدرآباد۔18جولائی (سیاست نیوز) دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے اور انہیں کئی سہولتیں درکار ہیں لیکن ان سہولتوں کا حصول ان کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ سدی پیٹ ضلع کے دیہی علاقوں اور منڈلوں کے عوام کے لئے جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل نے شہر حیدرآباد اور سدی پیٹ میں موجود اپنے رفقاء کے تعاون سے 26 میتوں کے لئے فریزر کی تقسیم عمل میں لائی اور 1000 متوفیوں کے لئے کفن کا کپڑا جمع کیا ۔ ریاستی وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ نے آج مختلف منڈلوں کے لئے عطیہ کئے گئے ان فریزرس کو روانہ کیا اور سدی پیٹ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران ان فریزرس کا عطیہ دینے والوں کو تہپنیت پیش کی۔ مسٹر ٹی ہریش راؤ نے اس تہنیتی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ریاست تلنگانہ میں سدی پیٹ ضلع میں میتوں کو رکھنے کیلئے فریزرس کی فراہمی کا جو منفرد منصوبہ تیارکیا گیا ہے اور مفت کفن کی فراہمی کے سلسلہ میں جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ سدی پیٹ اور فاروق حسین کو اختراعی کاموں کے آغاز کا اعزاز حاصل ہے۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں سب سے پہلے سدی پیٹ میں ’’ویکنٹارتھم‘‘ (آخری سفر) کے نام سے نعشوں کی منتقلی کا عمل شروع کیا گیا ۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دورا ن کہا کہ انسان کی موت کے بعد انسان کی آخری منزل تک پہنچانے کے کام میں بھی تعاون کرنا بے حد ضرور ی ہے کیونکہ اچھے حالات میں کی جانے والی مدد فراموش کی جاسکتی ہے لیکن جب تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس وقت کوئی مدد کے لئے آگے آتا ہے تو وہ ہمیشہ یاد رہ جاتا ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے جو کام انجام دیئے جا رہے ہیں وہ اپنی جگہ ہیں لیکن معاشرہ کے ذمہ دار شہریوں اور غیر سرکاری تنظیموں کو بھی شہریوں کی مدد کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے ۔ انہوں نے میتوں کیلئے فریزرس کا عطیہ دینے والوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ متمول افراد دیہی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی مختلف طریقوں سے مدد کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ جناب محمد فاروق حسین رکن قانون ساز کونسل سے دریافت کرنے پر بتایا کہ وہ اپنے علاقہ کا دورہ کررہے تھے تو انہیں کسی کے انتقال کی اطلاع موصول ہوئی اور جب وہ افراد خاندان کو پرسہ دینے کے لئے پہنچے تو گھر سوائے میت کے کوئی نہیں تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ معلومات حاصل کرنے پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ دیہی علاقوں میں اموات کے ساتھ ہیتجہیز و تکفین کی تیاریوں کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات کفن کے لئے کپڑاحاصل کرنے چندہ کرنا پڑتا ہے اور جب تک یہ انتظامات نہیں ہوجاتے اس وقت تک نعش کو ایسے ہی رکھا جاتا ہے ۔ جناب محمد فاروق حسین نے بتایا کہ دیہی علاقوں کے عوام کی موت کے بعد ان کی آخری رسومات عزت کے ساتھ ادا کی جاسکیں اس کیلئے یہ کوشش کی گئی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی یہ سلسلہ ریاست کے دیگر اضلاع میں بھی شروع کیا جائے گا۔
