میدانِ کربلا میں بھگدڑ ، 31 جاںبحق

,

   

Ferty9 Clinic

بغداد ۔ /11 ستمبر (سیاست ڈام کام)کم از کم 31 زائرین منگل کے دن ایک بھگدڑ کے دوران جاں بحق ہوگئے جو عراق کے شہر کربلا میں ایک درگاہ کے قریب پیش آئی ۔ یوم عاشورہ کو کربلا کے میدان میں زائرین کا ہجوم تھا ۔ وزارت صحت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کم از کم 75 افراد جو درگاہ شریف کے اطراف 100 کیلو میٹر (60) میل کے دائرہ میں مقیم تھے زخمی ہوگئے ۔ کربلا بغداد کے جنوب میں واقع ہے ۔ ترجمان سیف البدر نے پرزور انداز میں کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ یہ ہنوز قطعی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہلک ترین بھگدڑ تھی جو یوم عاشورہ کی حالیہ تاریخ میں پیش آئی ۔ جبکہ شیعہ زائرین دنیا بھر سے کربلا پہونچتے ہیں تاکہ حضرت حسینؓ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے نواسے کی شہادت کا غم مناسکے ۔ وہ 680 ہجری میںیزید کی فوج کے ہاتھوں شہید کردیئے گئے تھے ۔ یہ تاریخ اسلام میں ایک بڑا سانحہ تھا جس کی وجہ سے سنی اور شیعہ فرقوں میں یکجہتی پیدا ہونے میں مدد ملی ۔ منگل کے دن پرہجوم شیعہ لباس میں ملبوس زائرین ، سنہری گنبد والی درگاہ میں داخلہ کیلئے ایک دوسرے کو ڈھکیل رہے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں شیعہ پرچم تھا جس پر سرخ رنگ سے حسینؓ تحریر تھا اور وہ لوگ زور زور سے یہی نعرہ لگارہے تھے ۔ بعض افراد اپنے پیٹ اور سینوں کو پیٹ رہے تھے تاکہ اپنے رنج و غم کا اظہار کرسکیں ۔ نوجوان لڑکے بھی اپنی پیشانیوں کو زخمی کررہے تھے اور ان زخموں سے بہنے والا خون ان کے چہروں پر پھیل گیا تھا ۔ اسی طرح کہ قومی دارالحکومت بغداد میں بھی دیکھے گئے اور جنوبی شہروں نجف اور رمضا میں بھی یہی منظر نظر آرہا تھا۔ سابق ڈکٹیٹرصدام حسین کے سنی غلبہ والی حکومت کے دور میں عام آدمیوں کا یوم عاشورہ کے دن یہاں پر داخلہ ممنوع تھا ۔

اب اس دن عام تعطیل دی جاتی ہے ۔ پورے ملک میں سڑکوں پر کربلا کی جنگ کے مناظر کی اداکاری کی جاتی ہے ۔ 2005 ء میں کم از کم 965 زائرین امام قاسم کی درگاہ بغداد میں مختلف مقدس ایام میںجاں بحق ہوئے تھیجبکہ ایک خودکش بم بردار کے یہاں گھس آنے کی افواہ سرگرم ہوگئی تھی ۔ حضرت امام حسینؓ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے چہیتے نواسے تھے جنہوں نے اسلام میں شخصی حکمرانی کے متعارف ہونے کے خلاف اپنی آواز اٹھائی تھی جبکہ حضرت امیر معاویہؓ نے اپنے فرزند یزید کو اپنا جانشین اور بادشاہ مقرر کیا تھا ۔ اس طرح اسلام کا خلافت کا فلسفہ تبدیل ہوکر ملوکیت کی راہ ہموار ہورہی تھی ۔ اس کے خلاف حضرت حسینؓ کے احتجاج کی وجہ سے کربلا کا سانحہ پیش آیا۔