نئی دہلی۔ اپنے ملک کے لییمیڈل جیتنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا ہے اور اپنی فیڈریشن کے خلاف جانا اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنا اس سے بھی بڑا چیلنج ہے، لیکن ہندوستان کی خواتین پہلوانوں نے حالیہ دنوں میں یہ سب کر دکھایا ہے ہندوستان کے چوٹی کے پہلوانوں، بشمول بجرنگ پونیا، ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور دیگر نے 18 جنوری کو قومی دارالحکومت کے جنتر منتر پر ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیاکے صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کے اور فیڈریشن کے کوچز کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے۔اگرچہ اس احتجاج میں بہت سے لوگ شامل شامل رہے لیکن ونیش اور ساکشی اہم چہرے تھے اور انہوں نے بہت سی خواتین پہلوانوں کو آکر جو کچھ محسوس کیا اس کے بارے میں بات کرنے کی ترغیب دی۔ پی ٹی اوشا کی زیرقیادت ہندوستانی اولمپک اسوسی ایشن اور وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر نے مداخلت کی اور آخرکار برج بھوشن کو ان الزامات کی تحقیقات کرنے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے تک باہر کیا گیا۔لیجنڈری باکسر میری کوم کی سربراہی میں نگران کمیٹی فی الحال ڈبلیو ایف آئی کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو سنبھال رہی ہے لیکن اس سے پہلوانوں کی تیاری مثاثرہے۔