میدک، 13 جنوری۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سنگور پروجیکٹ کی مرمت کے سبب اگر فصلوں کیلئے پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے تو حکومت فوری طور پر کراپ ہالیڈے کا اعلان کرتے ہوئے متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 25 ہزار روپے معاوضہ ادا کرے، یہ مطالبہ نرساپور کی رکنِ اسمبلی وی۔ سنیتا لکشمی ریڈی اور سابق ڈپٹی اسپیکر و بی آر ایس ضلع صدر ایم۔ پدما دیویندر ریڈی نے کرتے ہوئے میدک کلکٹریٹ کے روبرو دھرنا منظم کیا گیا۔اس موقع پر رکنِ اسمبلی سنیتا لکشمی ریڈی نے کہا کہ گزشتہ دس برسوں میں کے سی آر کی قیادت میں کبھی سڑکوں پر آنے کی نوبت نہیں آئی، اور سنگور کے پانی کو میدک ضلع کے لیے مخصوص کرنے کا فیصلہ بھی کے سی آر نے ہی کیا تھا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بی آر ایس ضلع صدر و سابق ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی نے کہا کہ سنگور کے پانی گھناپور آیاکٹ کے تحت کسانوں کو فراہم کیے جائیں، بصورت دیگر کراپ ہالیڈے کا اعلان کر کے فی ایکڑ 25 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے۔ بعدازاں ایک یادداشت ایڈیشنل کلکٹر ناگیش کو پیش کی گئی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے کلکٹریٹ میں داخلے سے روکنے پر کچھ دیر کشیدگی بھی دیکھی گئی، تاہم بعد میں دروازے کھول دیے گئے۔ دھرنے میں کنتا ریڈی تروپتی ریڈی، لاونیا ریڈی، چندر گوڑ، سومولو، دیویندر ریڈی، اریلا ملیکارجن گوڑ، ماملا انجنیاولو، انجایا گوڑ، زبیر، درگیا، نریندر ریڈی،محمدفاضل۔ ہری کرشنا، گورومورتی گوڑ، راما گوڑ، سامبشیوراؤ، جتیندر گوڑ، وشنو وردھن ریڈی، پٹلوڑی راجو اور دیگر قائدین وکسانوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
