میدک ۔ 20 جنوری ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) میدک کے رکن اسمبلی ڈاکٹر مائنم پلی روہت راؤ نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ دس برسوں تک ریاست پر حکومت کرنے والی بی آر ایس نے تلنگانہ کو قرضوں کی ریاست بنا دیا، جبکہ موجودہ کانگریس حکومت کے دور میں میدک ترقی اور فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ پیر کے روز میدک شہر کے جے کے آر گارڈنس میں خواتین خود امدادی گروپس کو 90 لاکھ روپئے کے بلا سود قرضے تقسیم کیے گئے، اس کے بعد اندرامّا ساڑیوں کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ایل اے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنا کر انہیں کروڑ پتی بنانے کے مقصد کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ چھ ماہ میں میدک کی صورت حال بدل دی جائے گی اور ترقیاتی کاموں کے نتائج عوام کے سامنے ہوں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی آر ایس دور میں تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ ہوئے، جبکہ موجودہ حکومت ان شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رامائم پیٹ میں 200 کروڑ روپے کی لاگت سے ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ اسکول تعمیر کیا جا رہا ہے، اسی طرح ایڈوپایلا کے لیے 30 کروڑ اور عالمی شہرت یافتہ میدک چرچ کے لیے 33 کروڑ روپئے منظور کیے گئے ہیں جن پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ترقیاتی کام دیکھ کر عوام خود بخود آئندہ انتخابات میں کانگریس کو ووٹ دیں گے۔ اس پروگرام میں میونسپل کمشنر سرینواس ریڈی، میپما پی ڈی ہنمنت ریڈی، ٹاؤن مشن کوآرڈینیٹر سنیتا، کانگریس قائدین اور دیگر عوامی نمائندے شریک تھے۔