میدک میں گورنمنٹ میڈیکل کالج و کلاسیس کا آغاز

   

ریاست میں پانچ کینسر مراکز قائم کرنے کا تیقن ، ریاستی وزیر دامودھر راج نرسمہا و دیگر قائدین کا خطاب
میدک /24 اکٹوبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی وزیر صحت مسٹر دامودھر راج نرسمہا نے کہا کہ ریاستی حکومت کینسر جیسی مہلک بیماری پر قابو پانے کیلئے ریاست میں پانچ مراکز قائم کرتے ہوئے حیدرآباد کے مہدی نواز جنگ MNJ ہسپتال اڈوانس ٹیکنالوجی سے لیس کرتے ہوئے ایک منفرد مرکز بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔ وزیر صحت دامودھر راج نے میدک ٹاون میں امسال سے قائم شدہ میدک میڈیکل کالج کا افتتاح اور یہاں کلاسیس کا آغاز کرتے ہوئے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ریاستی وزیر نے شمع روشن کرتے ہوئے میڈیکل کلاسیس کا آغاز کیا ۔ اس موقع پر ایم ایل سی سبھاش ریڈی بھی موجود تھے ۔ دامودھر راج نرسمہا نے کہا کہ ریاست کے ہر ضلع میں کینسر پر قابو پانے کیلئے موبائل سنٹرس اور اس کے ساتھ ساتھ ریاست میں اسکریننگ سنٹرس بھی قائم کئے جائیں گے ۔ کینسر کے پانچ مراکز قائم کرتے ہوئے MNJ ہسپتال کو اس کا مرکز بنایا جائے گا ۔ ریاست میں 74 طبی علاج کے مراکز کے ساتھ ہر ضلع میں ٹراما سنٹرس بنائے جائیں گے ۔ دامودھر راج نے کہا کہ اندرون 40 دنوں میں میدک میں سرکاری اراضی پر میڈیکل کالج کی نئی عمارت کے تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا اور اس کالج سے منسلک 220 بستروں والا دواخانہ اور نرسنگ کالج کا بھی قیام عمل میں آئے گا۔ اس تقریب میں وزیر جنگلات ڈسٹرکٹ انچارج وزیر کنڈہ سریکھانے بھی خطاب کیا ۔ انہوں نے وزیر صحت دامودھر راج میدک میں نرسنگ کالج کے ساتھ ایک پیرامیڈیکل کالج کے قیام کا بھی مطالبہ کیا ۔رکن پارلیمنٹ میدک ایم رگھونندن راؤ نے بتایا کہ مرکز میں نریندر مودی کی حکومت کے دوران ملک میں 387 میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ہیں۔ رکن اسمبلی میدک ڈاکٹر روہت راؤ نے کہا کہ میڈیکل کالجس کے قیام سے ضلع میں غریب خاندانوں کے نونہالوں کو ڈاکٹرس بننے کی سہولتیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ اس پروگرام میں انڈسٹریل چیرپرسن محترمہ نرملا جکاریڈی ، ڈسٹرکٹ لائبریری چیرپرسن سہاسنی ریڈی ، سابق ایم ایل اے مدن ریڈی صدرنشین بلدیہ چندراپال نائب صدرنشین ملکارجن گوڑ پرنسپل کالج روی کمار، وائس پرنسپل روی شنکر ، محترمہ این وائی ڈائرکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن ، ڈاکٹر شیوا دیال ضلع کلکٹر راہول راج ، آر ڈی او رسا دیوی ، چٹی دیویندر ریڈی ، راجی ریڈی ، محمد حفیظ الدین ، سپرابھات راؤ ، مرزا احمد علی بیگ ، جیون راؤ ایڈوکیٹ کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔