شہر کی 200 سالہ قدیم منڈی کے تئیں عہدیداروں کی بے اعتنائی افسوسناک
حیدرآباد : میرعالم منڈی کمان کتنی دیر تک قائم رہے گی یہ نکتہ میرچوک میں ہر سڑک کے نکڑ پر بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس کمان کا چونے کا پلاسٹر جھڑتا جارہا ہے جو ہاکرس کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہے۔ نظام کی جانب سے بنائی گئی پانچ ایکرس رقبہ پر پھیلی ہوئی یہ منڈی شہر میں قدیم ترین منڈی ہے۔ میرعالم منڈی کی شکستہ حال منڈی کو آنے والوں اور یہاں رہنے والوں کیلئے خطرہ کا باعث بنی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس بات کو کئی مرتبہ متعلقہ عہدیداروں کے علم میں لایا گیا لیکن نظام دور کی اس تاریخی عمارت کی مرمت اور تزئین کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ مختلف مقامات سے اس مارکٹ کو ہر روز آنے والے لوگوں کو ترکاری وغیرہ کی خریدی کے لئے اس کمان سے گذرنا پڑتا ہے اور انہیں اس کمان سے خطرہ لاحق رہتا ہے۔ شیعہ یوتھ کانفرنس کے صدر سید ایف حسین جعفری نے کہا کہ میرعالم منڈی پرانے شہر میں ایک تاریخی مارکٹ ہے لیکن افسوسناک بات یہ ہیکہ اس کا داخلہ گذشتہ چند برسوں سے بہت خراب حالت میں ہے۔ مسٹر جعفری نے کہا کہ ’’اس داخلہ کو عہدیداروں نے نظرانداز کردیا ہے۔ حالانکہ خود میں نے اس کمان کی شکستہ حالت کے بارے میں جی ایچ ایم سی کمشنر اور زونل کمشنر سے شکایت کی ہے لیکن مجھے ان سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کئی گاڑیاں اس کمان سے گذرتی ہیں جس کی وجہ سے عمارت میں ارتعاش ہوتا ہے‘‘۔ پانچ ایکر اراضی پر پھیلی ہوئی یہ منڈی 200 سال سے زیادہ قدیم ہے اور زیادہ تر وینڈرس کی جانب سے چلائی جاتی ہے جو ٹین شیڈ میں بنے ہوئے 41 شاپس میں بیٹھ کر کاروبار کرتے ہیں۔ جب بارش ہوتی ہے تو دکانات کی چھت میں پجر ہوتا ہے۔ سماجی کارکنوں نے کہا کہ اس قدیم ترین عمارت کی مرمت اور تزئین کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور منڈی کی کمان بھی شکستہ حالت میں ہے جہاں چھت اور دیواروں سے ہر روز ٹکڑے گرتے رہتے ہیں۔ اور وینڈرس ان کا بزنس کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ 2018ء میں ’’میسیپی ہنگر‘‘ (گولی گوڑہ بس اٹسیشن کے نام سے معروف) کی طرح منڈی کا چھت بھی گر سکتا ہے۔ ایک دوکاندار عمر بن سراج نے کہا کہ ’’یہ بہت ہی فکر کی بات ہیکہ بارش کے دوران دیوار اور چھت سے کیچڑ گرتا ہے۔ پہلے اس کمان کا مقامی قائدین نے معائنہ کیا تھا لیکن پھر کوئی اس مسئلہ کو حل کرنے نہیں آیا۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور محکمہ آثارقدیمہ کے عہدیداروں سے اپیل ہے کہ اس عمارت کی خستہ حالت کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹ لیں اور متعلقہ عہدیداروں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمارت کے قریب کچرے کے انبار سے مسائل میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا ہیکہ کانگریس کے دورحکومت میں پوری میرعالم منڈی کی مرمت اور تزئین نو کرنے کی تجویز تھی لیکن اس سمت میں ہنوز کئی پہل نہیں ہوئی۔
