میرے صبر و تحمل کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے : کے سی آر کا انتباہ

,

   

زرعی شعبہ میں تلنگانہ میں سبز انقلاب ۔ سارے ملک کو غذا دینے کے موقف میں۔ چیف منسٹر کے سی آر کا انتخابی جلسہ سے خطاب

حیدرآباد 18 نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس قائدین کو بھونکنے والے کتے قرار دیتے ہوئے انہیں ووٹ کے ذریعہ شکست دینے کی عوام سے اپیل کی ۔ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں 2 ہزار روپئے پنشن نہ دینے کا الزام عائد کیا ۔ ثبوت پیش کرنے پر ناک زمین پر رگڑنے کا اعلان کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج جنگاؤں میں پرجا آشیرواد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کو ووٹ دے کر تلنگانہ کے مستقبل کو خطرے میں نہ ڈالنے کی اپیل کی اور کہا کہ اگر غفلت سے کانگریس اقتدار میں آجائے گی تو وہ گھر میں آرام کریں گے مگر آئندہ پانچ سال عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی کو رائکل ریڈی قرار دیا اور انہیں مخالف تلنگانہ قرار دیا اور تلنگانہ تحریک میں ریونت ریڈی مخالف تلنگانہ چندرا بابو نائیڈو کی جوتیاں چاٹتے تھے ان کی ہدایت پر تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کی مخالفت کرکے آندھرائی آقاؤں کو خوش کرتے تھے ۔ انہوں نے اپنی زندگی کو خطرہ میں ڈال کر تلنگانہ کی تحریک چلائی اور کامیابی بھی حاصل کی ۔ 10 سال میں تلنگانہ کے ہر شعبہ کو ملک میں سرفہرست کرچکے ہیں ۔ میرے خلاف ریونت ریڈی غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرکے عوامی برہمی مول لے رہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ وہ بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں ۔ میرے صبر و عمل کو اپوزیشن جماعتیں کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کریں ، ورنہ انہیں اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ چیف منسٹر نے کانگریس کو تلنگانہ کی نمبر ون دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کانگریس نے تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کیا ۔ 2004 میں ٹی آر ایس سے اتحاد کرکے کانگریس نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دینے کا وعدہ کیا ۔ اقتدار حاصل ہوتے ہی وعدے کو فراموش کردیا ، جس پر بی آر ایس ریاست اور مرکزی وزارت سے دستبردار ہوگئی ۔ تحریک میں شدت پیدا کی پھر 9 دسمبر کو تلنگانہ دینے کا وعدہ کیا پھر دستبردار ہوگئے ۔ جس سے دلبرداشتہ کئی نوجوانوں نے زندگیاں قربان کی ہیں ۔ علحدہ تلنگانہ حاصل کرنے کے بعد تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ 24 گھنٹے بلا وقفہ معیاری برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ ریاست کے ہر گھر کو نلوں سے پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ زرعی شعبہ میں سبز انقلاب برپا ہوا ہے ۔ تلنگانہ ملک کو کھانا کھلانے کے موقف میں آگیا ۔ جب ریاست ترقی یافتہ ہوگئی ، عوام خوشحال زندگی گذار رہے ہیں ۔ جس طرح چیل کی نظر مردار پر ہوتی ہے اس طرح کانگریس کی نظر تلنگانہ پر ہے اور ناقابل عمل وعدے کرکے عوام کے درمیان پہونچ رہے ہیں ۔ عوام کی معمولی غلطی کانگریس کے ارادوں کو کامیاب بنادے گی ۔ اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کریں ۔ ورنہ ان کا کچھ بھی نہیں بگڑے گا شکست ہوجانے پر وہ گھر پر آرام کریں گے مگر کانگریس کے قائدین لٹیروں کی طرح تلنگانہ لوٹ لیں گے ۔ پھر عوام کی مشکلات شروع ہوجائیں گی ۔ دھرانی پورٹل کو برخاست کرنے پر رعیتو بندھو کی رقم کسانوں کے بنک کھاتوں میں کیسے جمع ہوگی ۔ 24 گھنٹے والی برقی تین گھنٹوں تک محدود ہوجائے گی ۔ انتخابات میں کامیابی کیلئے کانگریس جھوٹے وعدے کرکے عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھا رہی ہے۔ ن

مودی کے آشیر واد سے کے ٹی آر کوچیف منسٹر بنانے کی اپیل کا اعتراف
وزیر اعظم نے نجی گفتگو کو منظر عام پر لادیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کا انٹرویو
حیدرآباد 18 نومبر ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعتارف کیا کہ انہوں نے ریاستی وزیر اور اپنے فرزند کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے اور آشیر واد دینے کی وزیر اعظم نریندر مودی سے بات کی تھی ۔ تاہم شخصی تبادلہ خیال اور گفتگو کو وزْر اعظم نے نظام آباد کے جلسہ میں افشاء کردیا اور یہ بڑی غلطی کی ہے ۔ انڈیا ٹوڈے کو ایک نٹرویو دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کئی اہم باتوں کا انکشاف کیا اور کہا کہ ریاست اور مرکز کے درمیان خوشگوار تعلقات کیلئے وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے مسلسل ملاقات کیا کرتے تھے ۔ اسی دوران وزیر اعظم نے انہیں این ڈی اے میں شمولیت کی دعوت دی تھی ۔ تب انہوں نے تلنگانہ کیلئے کچھ کرنے کی شرط رکھی تھی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملاقات کے دوران ان کی وزیر اعظم سے کئی مسائل پر بات چیت ہوئی تھی تب انہوں ( کے سی آر ) نے ان ( مودی ) کو بتایا تھا کہ وہ 50 سال سے سیاست میں ہیں۔ 70 سال عمر ہونے پر عملی سیاست سے دستبردار ہوکر فوری کے ٹی آر کو چیف منسٹر بنانے اور اس کیلئے کے ٹی ر کو آشیر واد دینے کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی وزیر اعظم سے اپیل کی تھی ۔ اس طرح کی شخصی باتوں کو سیاسی شہ نشین کے ذریعہ عوام کے سامنے پیش کردینا وزیر اعظم کو ذیب نہیں دیتا ۔ اگر مودی وزیر اعظم نہ ہوتے تو تلنگانہ میں فی کس آمدنی 4 لاکھ روپئے ہوتی ۔ وزیر اعظم گورنر تلنگانہ کا بیجا استعمال کرکے اسمبلی میں منظورہ بلز کو رکوا رہے ہیں۔ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ دلت کو چیف منسٹر بنانے کے وعدے پر آج بھی قائم ہیں۔ 2014 کے انتخابات میں 63 اسمبلی حلقوں پر کامیابی کے بعد تمام ارکان اسمبلی نے متحدہ طور پر ان سے چیف منسٹر بننے کی خواہش کی تھی ۔ وقت آنے پر ایک دن دلت کو چیف منسٹر بنایا جائیگا ۔ مرکز میں سرگرم رول ادا کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ وہ کہیں بھی نہیں جائیں گے ۔ یہیں رہ کر قومی سیاست میں اہم رول ادا کرینگے ۔