پولیس نے حراست میں مجھے ‘ میری بہو اور معصوم پوتے و پوتی کو اذیتیں دیں۔شیخ ریاض کی والدہ کی ڈی جی پی سے شکایت
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔25۔اکٹوبر۔پولیس نے شیخ ریاض کو فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا اور مجھے اور میرے افراد خاندان کو پولیس حراست میں زدوکوب کیا گیا ۔ شیخ ریاض کی والدہ محترمہ زرینہ بیگم نے ان کے فرزند کے قتل اور ان کے افراد خاندان کو زدوکوب کرنے کے سلسلہ میں تحریری شکایت ڈی جی پی مسٹر شیودھر ریڈی کو روانہ کرکے انکشاف کیا کہ پولیس ان کے فرزند شیخ ریاض پر 3لاکھ روپئے ادا کرنے دباؤ ڈال رہی تھی اور شیخ ریاض نے 10ہزار روپئے نقد ادا کرنے کے علاوہ ان کا سونا رہن رکھواتے ہوئے 19ہزار روپئے ادا کردیئے تھے ۔30 ہزار روپئے وصولنے کے بعد پرمود نے شیخ ریاض کو فون پر کال کرکے بات چیت کیلئے طلب کیا تھا اس بات کی توثیق شیخ ریاض کو موصولہ کالس سے کی جاسکتی ہے۔ بعد ازاں پرمود اور شیخ ریاض کے درمیان کیا ہوا وہ اس بات سے واقف نہیں ہیں لیکن 18 اکٹوبر کی رات 10 بجے ان کے گھر پولیس اہلکار پہنچے جو انہیں اور ان کی بہو صنوبر نازمین کے علاوہ ایک پوترے اور پوتری کو پولیس اسٹیشن لے گئے جہاں انہیں زدوکوب کیاگیا۔محترمہ زرینہ بیگم نے بتایا کہ انہیں اور ان کی بہو کی انگلیوں کے درمیان پین رکھ کر ہاتھوں کو دبانے کے علاوہ ان کے کپڑوں میں مینڈک چھوڑتے ہوئے زدوکوب کیاگیا ۔ انہو ںنے ڈائرکٹر جنرل پولیس کو روانہ شکایت میں ان کے ساتھ درندگی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ان کے تمام افراد خاندان کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر ڈال کر لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور ان کی بہو کے کپڑوں میں مینڈک چھوڑے گئے علاوہ ازیں ان کے معصوم پوترے اور پوتری کی آنکھوں میں مرچ پاؤڈر ڈال کر دردناک اذیتیں دی گئیں۔محترمہ زرینہ بیگم نے بتایا کہ اگر پولیس عہدیداروں کی جانب سے پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل گئی تو ان کی ساتھ درندگی کے ثبوت مل جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں نہ صرف لاٹھیوں بلکہ ہاتھوں اور لاتوں سے بھی پیٹا اور معصوم بچوں کے گلے دبانے کی کوشش کی اور یہ استفسار کر رہے تھے کہ ’’شیخ ریاض کہاں ہے‘‘؟انہو ںنے بتایا کہ وہ اور ان کی بہو کے علاوہ معصوم بچے بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ انہیں شیخ ریاض کے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن انہیں اذیت دینے کا سلسلہ بند نہیں کیاگیا بلکہ ان کے بال کھینچ کر تکلیف پہنچائی جاتی رہی ۔شیخ ریاض کی والدہ نے کہا کہ 20 اکٹوبر کی صبح اولین ساعتوں میں اعلیٰ پولیس اہلکاروں نے حقائق کی پردہ پوشی کیلئے ان کے فرزند کو فرضی انکاؤنٹر میں قتل کردیا اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ان کے فرزند نے پولیس کی بندوق چھین کر پولیس پر حملہ کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں ان کا قتل کردیا گیا۔ زرینہ بیگم کی تحریری شکایت کی نقل کے منظر عام پر آنے کے بعد کہا جا رہاہے کہ شیخ ریاض کو پولیس نے فرضی انکاؤنٹر میں قتل کیا اور انکے خاندان کو پولیس اسٹیشن میں اذیت دیتے ہوئے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملہ کی جامع آزادانہ تحقیقات کا اعلان کرکے حقائق کو منظر عام پر لائے ۔