جنترمنتر پر ہندوتوا وادی تنظیموں کی جانب سے مسلمانوں کو قتل عام کی کھلی دھمکیوں کے بعد سوشل میڈیا پر زبردست ردعمل
ملزمین کیخلاف کارروائی کا مطالبہ، اس نفرت انگیزی کیخلاف جنترمنتر پر ایک دن کے احتجاج کیلئے سوشل میڈیا پر اپیل
احمد اللہ صدیقی
نئی دہلی : دہلی کے جنترمنترپر ہندوتوا وادی تنظیموں کے ذریعہ کھلے عام مسلمانوں کو قتل کی دھمکی اور انتہائی اشتعال انگیز نعرے لگائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر کئی ہیش ٹیگ چلائے جارہے ہیں جن میں دہلی پولیس، وزیرداخلہ امیت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا جارہا ہیکہ وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کریں۔ وزیراعظم کی رہائش گاہ اور پارلیمنٹ سے چند قدم دوری پر اس طرح کھلے عام مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکی اور ان کے خلاف غیرشائستہ نعرے لگائے جانے کے خلاف مختلف ہیش ٹیگ کے تحت ہزاروں ٹوئیٹ کئے جاچکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سخت ردعمل کے بعد دہلی پولیس کے ذریعہ سے نامعلوم افراد کے خلاف کیس درج کئے جانے پر بھی لوگ دہلی پولیس کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز ویڈیو میں نظر آرہے ہر شخص کا نام بتا کر لوگ دہلی پولیس کو ٹیگ کررہے ہیں اور سوال پوچھ رہے کہ یہ لوگ نامعلوم کیسے ہوگئے۔ قابل ذکر ہیکہ بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے نے جنترمنتر پر اس مظاہرے کا انعقاد کیا تھا، ٹوئٹر پر اشونی اپادھیائے کی گرفتاری کیلئے بھی آواز بلند ہورہی ہے اور پولیس سے مطالبہ کیا جارہا ہیکہ اشونی اپادھیائے کو گرفتار کرکے ان سے سبھی ملزمین کا نام پوچھا جائے۔ دوسری جانب وزیراعظم مودی پر تصبرہ کرنے کی پاداش میں نیوز چینل ’آج تک‘ سے نکالے گئے صحافی شیام میرا سنگھ نے ’نفرت کے خلاف احتجاج‘ کے نام سے ہیش ٹیگ شروع کیا ہے، جس میں جنترمنتر پر ہندوتوا وادی تنظیموں کے خلاف ایک دن کے احتجاج کیلئے حمایت کی اپیل کی گئی ہے۔ ان کے ٹوئیٹر پر بھی زبردست ردعمل سامنے آرہا ہے اور لوگ اس کی حمایت کرہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی وزیرداخلہ امیت شاہ اور وزیراعظم مودی کو ٹیگ کرتے ہوئے ویڈیو شیئر کیا ہے جس میں کھلے عام مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم مودی اور امیت شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہیکہ آپ کو کوئی شک ہے تو اس ویڈیو میں آپ کی پارٹی کے لیڈران موجود ہیں جو تشدد کو بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے ’’برائے مہربانی میرے ہندوستان کو بچالو‘‘۔ جسٹس کاٹجو کے علاوہ ہزاروں افراد امیت شاہ اور دہلی پولیس کو ٹیگ کرکے ان شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جنترمنتر پر مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا وادی تنظیموں کے اس جلسہ میں انتہائی نفرت انگیز پمفلٹ بھی تقسیم کئے گئے۔ سوشل میڈیا پر چل رہی تصاویر کے مطابق 10 سال کی عمر تک کے بچوں کے ہاتھوں میں یہ پمفلٹ موجود تھے جس ہندوؤں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’اگر کمزوری دکھاؤگے تو مسلمانوں کو قتل عام کیسے کروگے اور ہندوستان اور پوری دنیا سے اسلام کا نام و نشان کیسے مٹاؤ گے۔