غازی پور: اترپردیش کے ضلع غازی پور کی ایک اسپیشل عدالت نے سرخیوں میں رہنے والے میر حسن پر جان لیوا حملہ معاملے میں چہارشنبہ کو سابق ایم ایل اے مختار انصاری کو بری کردیا۔ سال 2009 کو محمدآباد تھانہ علاقے کے گاؤں لکپورا باشندہ میر حسن اپنے گھر کے نزدیک سڑک پر صبح ٹہل رہے تھے کہ بدمعاشوں نے ان پر فائرنگ کردی۔ گولی ان کے کنپٹی کے پاس سے نکل گئی۔ حملہ آوروں میں ایک سونو یادو نے پہچان لئے جانے کے بعد دھمکی دی تھی کہ دو دن کے اندر جیل میں جاکر مختار انصاری سے مل لو نہیں تو پورے اہل خانہ کو مار دیں گے ۔ اس ضمن میں پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا اور تفتیش کے بعد ملزم سونو یادو اور مختار انصاری کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی۔ پراسیکیوشن نے اس معاملے میں کل چار گواہوں کو پیش کیا۔ سبھی نے اپنا بیان عدالت کے سامنے درج کرایا۔ دونوں طرف کی بحث سننے کے بعد اڈیشنل سیشن جج(ایم پی۔ ایم ایل اے )کورٹ درگیش کی عدالت نے مختار انصاری کو شبہ کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔ فیصلے کے وقت مختار انصاری ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت میں موجود رہے ۔
