میر عالم منڈی میٹرو ریل پراجکٹ جائیداد متاثرین کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کا تیقن

   

قانون ساز کونسل میں آواز اُٹھانے پر اظہار تشکر، متاثرین رکن کونسل جناب عامر علی خان سے ملاقات و تہنیت کی پیشکشی
حیدرآباد۔22۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تاجرین میرعالم منڈی نے آج دفتر سیاست میں رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خان سے ملاقات کرتے ہوئے ایوان میں ان کی متاثر ہونے والی جائیدادوں کے لئے معقول معاوضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں آواز اٹھانے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے ان کی گلپوشی کی اور خواہش کی کہ وہ متاثرین کے مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھائیں۔ متاثرین نے بتایا کہ معاوضہ کے سلسلہ میں ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے علاوہ اس راہداری پر کئی مسائل کا جائیداد مالکین کو سامنا کرنا پڑرہا ہے ان جائیدادمالکین کے مسائل کے حل کے سلسلہ میں اگر عامر علی خان نمائندگی کرتے ہیں تو انہیں ان مسائل کے حل کی توقع ہے۔ جناب عامر علی خان نے متاثرین کے مسائل کی سماعت کے بعد ان کے حل کے سلسلہ میں ممکنہ حد تک کوشش کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ پر عمل آوری کے سلسلہ میں کاموں کو تیز کیا جاچکا ہے اور اس راہداری پر کاموں کی تکمیل اور پرانے شہر میں میٹرو ریل کے آغاز سے پرانے شہر کی ترقی میں حائل رکاوٹیں دور ہونے لگ جائیں گی۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت اور میٹرو ریل کی جانب سے جو معاوضہ کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے متعلق سرکاری طور پر توثیق کے بعد ہی اس سلسلہ میں نمائندگی کی جاسکتی ہے علاوہ ازیں جائیدادوںکے حصول کے سلسلہ میں کی جانے والی عہدیداروں کی من مانی کے متعلق جناب عامر علی خان نے کہا کہ حکومت اور عوام کی مرضی کے خلاف اگر عہدیدار اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ وہ ضلع کلکٹر حیدرآباد ‘ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ‘ پرنسپل سیکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق کے علاوہ منیجنگ ڈائریکٹر حیدرآباد میٹرو ریل سے ملاقات کرتے ہوئے پرانے شہر کی راہداری کے سلسلہ میں اب تک کئے جانے والے اقدامات کے متعلق تفصیلات سے آگہی حاصل کریں گے۔تاجرین میرعالم منڈی و مالکین جائیداد نے جناب عامر علی خان سے اس راہداری میں متاثر ہونے والی جائیدادوں کا عہدیداروں کے ہمراہ معائنہ کرنے کی خواہش کی اور کہا کہ اگر وہ اس علاقہ میں تاجرین سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی صورتحال سے آگہی حاصل کرتے ہیں تو ایسی صورت میں حکومت سے مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ جناب عامر علی خان نے تاجرین کو تیقن دیا کہ وہ معاوضہ میں اضافہ کے علاوہ دیگر امور جن پر توجہ دلوائی گئی ہے ان کے متعلق تفصیلی مطالعہ کے بعد دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کریں گے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل پراجکٹ کا آغاز ان کا دیرینہ خواب ہے اور اس پراجکٹ میں پرانے شہر کے عوام خود بھی حکومت سے تعاون کرنے کے لئے آمادہ ہیں لیکن ان کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے پراجکٹ پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاتا ہے تو ایسی صورت میں حکومت اور عوام کے درمیان کوئی خلش پیدا نہیں ہوگی۔ تاجرین نے سلطان بازار میں سڑک کی توسیع کے بغیر میٹرو ریل کے کاموں کو یقینی بنائے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹرو ریل کے عہدیداروں کی جانب سے کسی بھی جائیداد کو متاثر کئے بغیر سلطان بازار میں میٹرو ریل کے کاموں کو مکمل کیا گیا اسی طرح سکندرآباد میں بھی میٹرو ریل کے پلروں کی اونچائی میں اضافہ کرتے ہوئے پراجکٹ کو بغیر کسی تاریخی عمارت یا مذہبی عمارتوں کو متاثر کئے مکمل کیا گیا اسی طرح اگر حیدرآباد میٹروریل پرانے شہر کی راہداری پر بھی کام انجام دیئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں پرانے شہر کے جائیداد مالکین کے بیشتر مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔3