میر عثمان علی خاں بہادر کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کا مطالبہ

   


ملک کی حفاظت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا عطیہ 1500 کروڑ روپے نظام سرکار نے دیا تھا
بیدر۔ 18 ستمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ’’محسنِ ہندوستان‘‘ نواب میرعثمان علی خان بہادر( نظام ہفتم )جو آزاد ہندوستان میں حیدرآباد اور اس کے اطراف واکناف کے علاقوں کے راج پرمکھ (گورنر)بنائے گئے تھے، انھیں مرکزی حکومت بھارت رتن ایوارڈدینے کااعلان کرے۔ یہ مطالبہ معروف سیاست دان اور سماجی کارکن جناب عبدالمنان سیٹھ نے کیاہے۔ انھوں نے اپنے تازہ پریس نوٹ میں کہاہے کہ ہرسال 17؍ستمبر کو حیدرآباد کے سابق حکمران میر عثمان علی خان بہاد ر جنہیںعرف عام میں نظام سرکار کہاجاتاہے ، کی شاندار اور سیکولر حکومت کو فسطائی طاقتیں من گھڑت کہانیوں کے ذریعہ بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ1965کی ہند۔ پاک جنگ کے فوری بعد چین نے تبت کو آزاد کرانے کابیٹرا اٹھایااور ہندوستان کو دھمکیاں دینی شروع کردیںتھیں ۔ہندپاک جنگ سے ہندوستان کاخزانہ پوری طرح خالی ہوچکاتھا۔چین اور جنگ کے خطرے کو دیکھتے ہوئے اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ’’بھارت کی حفاظت ‘‘ کے عنوان سے عمومی چند ااکٹھا کرنا شروع کردیا لیکن اس سے فوجیوں کی ناکافی مددہورہی تھی۔ تب ریڈیوکے ذریعہ وزیر اعظم شاستری نے عوام کے علاوہ راجے رجواڑوں سے بھی امداد طلب کی۔ یہ اپیل میرعثمان علی خان بہاد رنے بھی اپنے کانوں سے سنی اور وزیراعظم لال بہادرشاستری کو حیدرآباد بلاکر دنیاکااب تک کاسب سے بڑاعطیہ 5 ٹن سونا(موجودہ قیمت 1500کروڑسے زائد روپئے) کی شکل میںدیا تھا۔ اگریہ عطیہ نہ کیاجاتاتو ہندوستان کو کتنا نقصان پہنچتا اس کااندازہ لگایا نہیں جاسکتا۔ایسا’’محسنِ ہندوستان‘‘شخص جس نے ہند۔ پاک جنگ کے فوری بعد ایک اور پیش آمدہ جنگ کی مشکل گھڑی میں اپنی رقم سے اپنے ملک ہندوستان کی مدد کی ہو اس کو غیرغلط الزامات لگاکر بدنام کرنا ہرگزدرست نہیں۔بلکہ ان کے احسان کویاد رکھتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کی قیاد ت والی مرکزی حکومت میرعثمان علی خان بہادر کو بعدازمرگ ’’بھارت رتن ایوارڈ‘‘ دینے کا اعلان کرے۔اس سے ہندوستانی قیادت کی سچائی اورمحسن نوازی کے چرچے ساری دنیا میں ہوسکتے ہیں۔ جناب عبدالمنان سیٹھ نے آگے کہاکہ میرعثمان علی خان بہادر کی دریادلی ساری دنیا میں مشہور ہے۔مملکت آصفیہ (نظام شاہی) ریاست کی 85فیصد ہندو آبادی کو پوری مذہبی آزادی دی گئی تھی ۔32ہزار سے زائد منادر کو مالی امداد اور جاگیریں عطاکی گئیں۔ جس میں یادگیرگٹہ مند ر، تروپتی مندر، سیتارام مند رشامل ہیں۔اس کے علاوہ میرعثمان علی خان نے بنارس ہندویونیورسٹی کو ایک لاکھ روپئے عطیہ دیاتھا۔ میرعثمان علی خان ایک جابر حکمران ہوتے تو سردارولبھ پٹیل جیسے قدآورلیڈر آپ کو اس دستوری عہدہ (راج پرمکھ) پر فائز نہ کرتے۔ موصوف نے مرکزی حکومت سے اس توقع کااظہارکیاہے کہ وہ میرعثمان علی خان کو بعدازمرگ ’’بھارت رتن ایوارڈ‘‘ سے ضرور نوازے گی ۔واضح رہے کہ نظام سرکارکی کئی عطائیں ہیں جن پر ریسرچ کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مکہ تک دان کے لئے ہاتھ بڑھایاتھا۔ آج رباط اسی کی دین ہے۔