مندر انہدام کے مقام پر احتجاج کے کوریج پر کٹر عناصر کی حرکت
میسورو : اُردو اخبار کے صحافی کو ہندو جاگرن ویدیکے نے گزشتہ روز اپنے احتجاج کے دوران زدوکوبی کا نشانہ بنایا۔ اِس تنظیم کے ارکان میسور پیالیس کی نارتھ گیٹ کے پاس مندر کے انہدام کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ وہ اِس ضلع میں حال ہی میں ایک اور مندر کے انہدام پر بھی برہم ہیں۔ مقامی روزنامہ ’کوثر‘کے چیف ایڈیٹر محمد صفدر قیصر احتجاج کے موقع پر ویدیکے جنرل سکریٹری جگدیش کارنتھ کی تقریر کو ریکارڈ کررہے تھے کہ تنظیم کے ارکان مشتعل ہوگئے اور اِس ایونٹ کی ریکارڈنگ پر اعتراض کیا۔ اُنھوں نے قیصر سے مطالبہ کیاکہ ریکارڈنگ فوری حذف کردیں۔ ساتھ ہی ویدیکے کارکنوں نے قیصر کو مار پیٹ بھی کی۔ اگرچہ پولیس وہاں موجود تھی لیکن اُس کی مداخلت سے قبل اُردو جرنلسٹ کی پٹائی ہوچکی تھی۔ آخرکار پولیس نے جرنلسٹ کو وہاں سے نکالا اور میسور پیالیس کے احاطہ کے روبرو واقع ایک مندر کے قریب روم میں اُنھیں لے گئے جبکہ مشتعل ویدیکے کارکنان لاٹھیوں کے ساتھ اُن پر مزید حملے کیلئے دوڑے چلے آئے۔ میسورو ڈی سی پی پردیپ گنتی نے جرنلسٹ کی شکایت وصول کی اور وہاں موجود دیگر میڈیا والوں سے بھی بات کی۔ قیصر نے شہر کے دیواراجہ پولیس اسٹیشن میں بھی شکایت درج کرائی ہے۔ جرنلسٹ اسوسی ایشن نے اِس حملہ کی مذمت کی ہے۔